Book - حدیث 3841

كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ بَابٌ فِي دَوَابِّ الْبَحْرِ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلْقُوا مَا حَوْلَهَا وَكُلُوا

ترجمہ Book - حدیث 3841

کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل باب: سمندری جانوروں کا حکم ام المؤمنین سیدہ میمونہ ؓا سے روایت ہے کہ گھی میں چوہا گر گیا ، نبی کریم ﷺ کو بتایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ” ( چوہا اور ) اس کے ساتھ ساتھ جو ہے وہ گرا دو اور باقی کھا لو ۔ “ فائدہ۔ارد گرد کا گھی جہاں تک متاثر ہو اسے نکالنے کے بعد باقی گھی استعمال کرنے کی اجازت ہے۔اگلی دونوں احادیث میں جمے ہوئے اور پگھلے ہوئے گھی فرق بیان کیا گیا ہے۔محدثین بلکہ امام بخاری نے آگے آنے والی حدیث کو کئی علل اور اوہام کے حوالے سے ضعیف قرار دیا گیا ہے۔لیکن اکثرفقہاء نے یہی کہا ہےکہ گھی جما ہوا ہو تو ارد گرد کے گھی سمیت چوہانکال کر باقی استعمال کیا جاسکتاہے۔اگر پگھلا ہوا ہو تو اسے کھانے میں استعمال نہ کیا جائے۔حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کافتویٰ بھی یہی ہے۔بعض محدثین نے گھی یاتیل چاہے پگھلا ہوا ہو۔ اس میں اردگرد سے سارا متاثرہ تیل نکا ل کر باقی کو استعمال کرنے کی اجازت ہے۔- خوردنی تیل ملائشیا وغیرہ سے بڑے بڑے بحری جہازوں میں آتا ہے۔ان جہازوں میں چوہے وغیرہ مستقل بسیرا بنا کررہتے ہیں اگر ایک چوہا گرنے سے سارا تیل ضائع کرنا پڑے تو یہ ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔امام بخاری کی رائے بھی اس کی موئد ہے۔