Book - حدیث 3832

كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ بَابٌ فِي تَفْتِيشِ التَّمْرِ الْمُسَوَّسِ عِنْدَ الْأَكْلِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ أَبُو قُتَيْبَةَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ عَتِيقٍ، فَجَعَلَ يُفَتِّشُهُ, يُخْرِجُ السُّوسَ مِنْهُ.

ترجمہ Book - حدیث 3832

کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل باب: کیڑا لگی کھجور کو کھاتے وقت صاف کرنے کا بیان سیدنا انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے پرانی کھجور پیش کی گئی تو آپ اسے کھول کھول کر اچھی طرح جائزہ لیتے اور سرسریاں نکال دیتے تھے ۔ فائدہ۔سوس پہلے سین پر زبر پڑھیں۔تو یہ مصدر ہوگا۔اس سے مراد کھجور یا غلے کا وہ دانہ ہوگا۔جس میں کیڑا وغیرہ لگ گیا ہو۔ اگر پہلے سین پر پیش پڑھیں۔توخود کیڑا یا سرسری مراد ہوگی۔مطلب یہ کہ کیڑا وغیرہ لگنے سے کھجور یا غلہ نجس نہیں ہوجاتا۔اور جہاں تک ہوسکے صاف کرکے استعمال کر لیناچاہیے۔اس میں نبی کریمﷺ کاتواضع کا بھی بیان ہے کہ آپﷺ میں نخوت نہ تھی۔