Book - حدیث 3824

كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ بَابٌ فِي أَكْلِ الثُّومِ صحیح حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ أَظُنُّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَفَلَ تُجَاهَ الْقِبْلَةِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَفْلُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَمَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الْخَبِيثَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا ثَلَاثًا

ترجمہ Book - حدیث 3824

کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل باب: لہسن کھانے کا بیان سیدنا حذیفہ ؓ سے منقول ہے ، راوی کا خیال ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، فرمایا ” جس نے قبلے کی طرف تھوکا تو قیامت کے دن وہ شخص اس حال میں آئے گا کہ اس کا تھوک اس کی آنکھوں کے درمیان لگا ہو گا ‘ اور جس نے یہ ناپسندیدہ سبزی کھائی ہو وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے “ آپ ﷺ نے یہ بات تین بار فرمائی ۔ فوائد ومسائل۔1۔مسجد کے آداب کے علاوہ قبلے کے احترام میں یہ چیز بھی انتہائی اہم ہے۔کہ ا س کی سمت میں تھوکا نہ جائے۔نماز کی حالت ہویا نماز سے باہر یہ بات صراحت سے کہی گئی لیکن لوگ اس کی پرواہ نہیں کرتے۔حالانکہ نبی کریم ﷺ نےایک شخص کو اس جرم کی پاداش میں امامت سےمعزول فرمادیاتھا۔دیکھئے۔(گزشتہ حدیث 482۔کتاب الصلواۃ۔کراہیۃ البزاق فی المسجد) 2۔مسجد نبوی ﷺ کی تعظیم وحرمت وحرم مکی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ آدمی کسی طرح بھی دوسروں کےلئے ازیت کاباعث نہ بنے۔دیگر مساجد کاادب بھی یہی ہے۔جیسے کہ اگلی حدیث میں ہے۔