Book - حدیث 3787

كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ بَابُ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ الْجَلَّالَةِ وَأَلْبَانِهَا حسن صحيح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَهْمٍ حَدَّثَنَا عُمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَلَّالَةِ فِي الْإِبِلِ أَنْ يُرْكَبَ عَلَيْهَا أَوْ يُشْرَبَ مِنْ أَلْبَانِهَا

ترجمہ Book - حدیث 3787

کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل باب: نجاست خور جانور کے گوشت کھانے اور اس کے دودھ پینے کی ممانعت کا بیان سیدنا ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نجاست خور اونٹ پر سواری کرنے اور اس کا دودھ پینے سے منع فرمایا ہے ۔ فائدہ۔جلالہ اس جانور کوکہتے ہیں۔جو نجاست کھائے ۔امام ابن حزم نجاست خور مرغی کو اس میں شامل نہیں کرتے۔لیکن اکثریت کے مطابق مرغی سمیت تمام پرندے بھی اگر نجاست خور ہوں تو جلالہ ہی میں آیئں گے۔ ابو اسحاق المروزی۔امام الحرمین۔بغوی اور غزالی۔نے نجاست خور مرغی کے انڈے کو نجاست خور بکری گائے وغیرہ کے دودھ پر قیاس کیا ہے۔ بلکہ ہر اس جانور کوجلالہ کے حکم میں شامل کیاہے۔ جس کی پرورش نجس خورا ک پرہو۔ مثلا ایسا بکری کا بچہ جس کی پرورش کتیا کے دودھ پر کی گئی ہو۔دیکھئے۔(فتح الباری۔کتاب لذبائع والصید باب لحم لادجاج) آجکل مرغیوں کی خوراک میں حیوانی پروٹین کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔خون وغیرہ تو پاکستان جیسے مسلم ممالک میں بھی فیڈ میں ڈالا جاتا ہے۔غیر مسلم ممالک میں حرام جانوروں کے گوشت اجزاء بھی فیڈ میں استعمال ہوتے ہیں۔کیا اس قسم کی مرغی جلالہ کہلائے گی۔؟ہاں اگر اس کی غذا کا زیادہ تر حصہ حرام اور نجس اجزاء پر مشتمل ہویا اس سے گوشت انڈے وغیرہ میں بد بو پیدا ہوجائے۔تو یقیناً حرام ہوگی۔کسی جانور کے حلالہ نہ ہونے کی وجہ سے یہی دو باتیں اہم ہیں۔بعض فقہاء نے کہا ہے کہ اگراس کی غذا کازیادہ حصہ نجس ہے تو جلالہ ہے۔تاہم امام لیث کے نذدیک جانور اگر صرف نجاست کھاتا ہے۔تو جلالہ ہے۔رافعی وغیرہ کا خیال ہے کہ غذا کی مقدار اہم نہیں۔ اصل اہمیت گوشت دودھ وغیرہ میں بو پیدا نہ ہونے کی ہے۔اگر یہ اشیاء بو سے پاک ہیں تو استعمال کرلی جایئں اور گر بدبودار ہیں تو ممنوع ہیں۔ وٹرنری اور ڈاکٹروں اورفیڈسازوں کے مطابق مغربی ممالک کی مرغیوں کی فیڈ میں کسی حد تک ملی جلی حیوانی پروٹین شامل ہوتی ہیں۔عمومی تجربہ یہ ہے کہ ان کے گوشت میں کوئی ناگواربو پائی نہیں جاتی۔ اس لئے یہ مرغیاں جلالہ کے حکم میں شامل نہ سمجھی جایئں گی۔البتہ یہ ضروری ہے کہ مسلمان اپنے استعمال کے لئے خود فارم بنایئں کفار سے ایسی اشیاء کی درآمد پر انحصارختم کریں۔ اس بات پر فقہاء کا اتفاق ہے کہ اگرایسے جانور کو باندھ کراسے صرف چارہ وغیرہ کھلایاجاتارہے۔توکچھ عرصے کے بعد اس کاگوشت دودھ وغیرہ نجاست کے اثرات سے پاک ہوجاتاہے۔حافظ ابن حجر فرماتے ہیں۔کہ ابن ابی شیبہ نے صحیح سند سے حضرت ابن عمر کا کاعمل نقل کیاہے۔کہ وہ جلالہ مرغی کوتین روز تک بند رکھاکرتے تھے۔بڑے جانوروں گائے اونٹ وغیرہ کے بارے میں عطا اوردیگرفقہاء چالیس دن بند رکھ کر چارہ دکھلانے کے بعد اس کا گوشت کھانے کی اجازت دیتے ہیں۔اس سلسلے میں حضرت عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مرفوع حدیث کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔جس میں جلالہ کی حرمت اور حلت کےلئے جانور کوچالیس روز تک محبوس رکھنے کاحکم ہے۔لیکن یہ روایت سندا ضعیف ہے۔البتہ صحیح احادیث میں شراب پینے والے انسان کی چالیس روز تک نماز قبول نہ ہونے کی صراحت موجود ہے۔(سنن نسائی الاشربہ۔باب الذکر الاثام المتولدۃ من شرب الخمر۔۔۔ حدیث 5672۔5671 وجامع ترمذی الاشربہ باب ما جاء فی شارب الخمر حدیث 1862)جس سے یہ استدلال کیا جاسکتاہے۔کہ نجس چیز کے استعمال کے اثرات چالیس روز کے بعد اجسام سے زائل ہوجاتے ہیں۔بعض فقہاء مثلا مام نووی کہتے ہیں۔کہ اصل وجہ منع چونکہ بدبو ہے۔اس لئے جب یہ زائل ہوجائے تو جانورکا گوشت اوردودھ وغیرہ شرعا قابل استعمال ہوگا۔دیکھئے۔(عون المبعود الاطعمۃ۔باب النھی عن اکل الحلالۃ ،البا نھا )یہ حکم غالبا نجاست زدہ کنویں کے پانی کو صاف کرنے کے حکم سے مشابہ ہے کہ نجاست زائل کرنے کے بعد اس وقت تک پانی نکالا جاتا رہے حتی کہ وہ بورنگ اورذائقے میں بالکل صاف ہوجائے۔ نجاست خوراونٹنی وغیرہ پر سواری کرنا بھی اس وقت جائز ہوگا۔جب اس کے جسم (پسینے وغیرہ) سے نجاست کی بدبو بالکل زائل ہوجائے گی۔طہارت اورپاکیزگی کا یہ اعلیٰ معیار صرف اس دین کا بتایا ہوا ہے۔خود اللہ تعالیٰ نے یہ صفت بیان فرمائی (وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ)(الاعراف۔157)پاکیزہ اشیاء کو حلال ٹھراتے ہیں۔اور تمام گندگیوں کوحلال قرار دیتے ہیں۔