Book - حدیث 3763

كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ ذَمِّ الطَّعَامِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ, قَال:َ مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ إِنِ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ وَإِنْ كَرِهَهُ تَرَكَهُ.

ترجمہ Book - حدیث 3763

کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل باب: کھانے میں عیب جوئی مکروہ ہے سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا ۔ آپ ﷺ کی طبیعت چاہتی تو تناول فر لیتے اگر ناپسند کرتے تو چھوڑ دیتے ۔ فوائد ومسائل۔1۔انسان اللہ کی نعمت کھانے سے رہ بھی نہ سکے۔اور پھر اس کی عیب جوئی بھی کرے۔یہ بہت بُری خصلت ہے۔اگرکھانا تیار کرنے والے کی تقصیر ہوتو اس کو مناسب انداز سے سمجھا دینا چاہیے۔2۔اس حدیث سے یہ استدلال بھی کیا جاسکتا ہے۔کے انسان نے کسی شخص یا کسی ادارے سے کوئی معاہدہ طے کیا ہو۔اورطے شدہ امور وشرائط پر معاملہ چل رہا ہو تو مناسب نہیں کہ اس ادارے یا افراد پر بلاوجہ معقول طعن وتشنیع کرے۔یا تو بخیر وخوبی ساتھ نبھائے یا بھلے انداز سے جدا ہوجائے۔تاہم نصیحت او ر خیر خواہی کا اسلامی شرعی اور اخلاق حق اچھے طریقے سے ادا کیا جاناچاہیے۔