Book - حدیث 3729

كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابٌ فِي النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ وَالتَّنَفُّسِ فِيهِ صحیح حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ مَنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي فَنَزَلَ عَلَيْهِ فَقَدَّمَ إِلَيْهِ طَعَامًا فَذَكَرَ حَيْسًا أَتَاهُ بِهِ ثُمَّ أَتَاهُ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ فَنَاوَلَ مَنْ عَلَى يَمِينِهِ وَأَكَلَ تَمْرًا فَجَعَلَ يُلْقِي النَّوَى عَلَى ظَهْرِ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةُ وَالْوُسْطَى فَلَمَّا قَامَ قَامَ أَبِي فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ لِي فَقَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ

ترجمہ Book - حدیث 3729

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل باب: پانی میں پھونک مارنا اور برتن میں سانس لینا سیدنا عبداللہ بن بسر ؓ جو قبیلہ بنی سلیم سے ہیں ان کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے والد کے ہاں تشریف لائے اور کچھ دیر ٹھہرے ۔ میرے والد نے آپ ﷺ کو کھانا پیش کیا ۔ انہوں نے ذکر کیا کہ وہ کھانا حیس ( ایک خاص قسم کا کھانا جو کھجور ، پنیر ، گھی اور آٹے وغیرہ کا مرکب ہوتا ہے ) تھا جو لایا گیا ۔ پھر وہ مشروب لائے جو آپ ﷺ نے نوش فرمایا ، پھر اپنے دائیں طرف والے کو دے دیا ، اور آپ ﷺ نے کھجوریں کھائیں اور گٹھلیاں اپنی انگشت شہادت اور ساتھ والی انگلی کی پشت پر رکھتے گئے ۔ پھر جب آپ ﷺ وہاں سے اٹھے تو میرے والد نے اٹھ کر آپ ﷺ کی سواری کی لگام تھام لی اور عرض کیا کہ میرے لیے اللہ سے دعا فرمائیں ، تو آپ ﷺ نے فرمایا ” «اللهم بارك لهم في رزقتهم ، واغفر لهم وارحمهم» ” اے اللہ ! جو تو نے انہیں عنایت فرمایا ہے اس میں انہیں برکت دے ، ان کی مغفرت فر اور ان پر رحمت نازل کر ۔ “ فوائد ومسائل۔1۔اس حدیث سے واضح ہواکہ نبی کریم ﷺنے کھائی ہوئی کھجوروں کی گھٹلیاں اسی برتن میں نہیں ڈالیں۔ بلکہ علیحدہ رکھیں کیونکہ نفیس طبایع پر بات بہت ناگوار گزرتی ہے۔تو اس طرح پانی کے برتن میں سانس لینا بھی دوسروں کوبُرا لگتا ہے۔2۔مشروب پینے کے بعد آپ نے دایئں طرف والے کو یا۔3۔ اصحاب فضل والے کی تکریم کرنا جس طرح میزبان نے رسول اللہ ﷺ کی تکریم کی پسندیدہ بات ہے۔4۔میزبان اپنے مہمان سے دعا کی درخواست کرسکتا ہے۔5۔کھانے کے بعد دعا کرنا سنت ہے۔اور جودعا رسول اللہ ﷺنے فرمائی وہی دعا کرنا افضل ہے۔