Book - حدیث 3719

كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابُ الشَّرَابِ مِنْ فِي السِّقَاءِس صحیح حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: >نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ وَعَنْ رُكُوبِ الْجَلَّالَةِ وَالْمُجَثَّمَةِ<. قَالَ أَبو دَاود: الْجَلَّالَةُ الَّتِي تَأْكُلُ الْعَذْرَةَ.

ترجمہ Book - حدیث 3719

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل باب: مشکیزے کے منہ سے منہ لگا کر پینا سیدنا ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ مشکیزے کے منہ سے منہ لگا کر پیا جائے اور گندگی کھانے والے جانور پر سواری کی جائے اور ایسا جانور کھایا جائے جس کو باندھ کر نشانہ مارا گیا ہو ۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں : «جلالة» اس جانو کو کہتے ہیں جو پاخانہ کھاتا ہو ۔ ( یعنی جس کی یہ عادت ہو ) ۔ فوائد ومسائل۔1۔مشکیزے کے منہ سے یا نل کو منہ لگا کر براہ راست پینا مکروہ (تنزہیی ) ہے۔علماء نے کہا ہے۔کہ یہ صرف اس صورت میں ہے کہ مشکیزہ لٹکا ہوا ہو تو براہ راست پینے کا جواز ثابت ہوسکتا ہے۔انہوں نے یہ رائے بھی نقل کی ہے۔ کہ مشکیزہ لٹکا ہوا ہو اسے اتارا نہ جاسکتا ہو۔یا برتن میسر ہی نہ ہو۔اور ہتھیلی سے پینا بھی ممکن نہ ہو۔ تو اس صورت میں مشکیزے سے براہ ر است پینے میں کوئی حرج نہیں۔(فتح الباری۔کتاب الاشربہ باب المشرب من فم السقاء) مشکیزے کے خراب ہونے کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے۔ کے مشکیزے میں یا نل میں کوئی موذی چیز داخل ہوگئی ہو اور پینے والے کو اس کی خبر بھی نہ ہو۔اور پھراذیت اٹھائے۔2۔گندگی کھانے والے جانور کا دودھ گوشت اور اس کی سواری سب منع ہیں۔ذبح کرنا ہوتو پہلے کم از کم تین دن تک باندھ کر رکھا جائے۔(ارواء الغلیل روایت 2505)3۔کسی مملوکہ جانور کو نشانہ مار کر قتل کرناحرام ہے۔الا یہ کہ وہ وحشی بن جائے۔اور شکار کےحکم میں آجائے تو جائز ہے۔