Book - حدیث 3718

كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابٌ فِي الشُّرْبِ قَائِمًا صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبُرَةَ أَنَّ عَلِيًّا دَعَا بِمَاءٍ فَشَرِبَهُ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ إِنَّ رِجَالًا يَكْرَهُ أَحَدُهُمْ أَنْ يَفْعَلَ هَذَا وَقَدْ: >رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ مِثْلَ مَا رَأَيْتُمُونِي أَفْعَلُهُ<.

ترجمہ Book - حدیث 3718

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل باب: کھڑے ہو کر پینا جناب نزال بن سبرہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی ؓ نے پانی منگوایا اور کھڑے ہو کر پیا ‘ پھر کہا : تحقیق کچھ لوگ اس کو مکرو سمجھنے لگے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ اس طرح کر لیا کرتے تھے جیسے تم نے مجھے کرتے دیکھا ہے ۔ ( یعنی کھڑے ہو کر پی لیا کرتے تھے ) ۔ فائدہ۔جامع ترمذی کی ایک حدیث جس کو امام ترمذی نے صحیح کہا ہے۔اس میں ہے کہ حضرت کبشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ ر سول اللہ ﷺ ان کے ہاں گئے۔گھر میں مشکیزہ لٹک رہا تھا۔تو آپﷺنے اس سے کھڑے کھڑے پانی نوش فرمایا۔پھر میں نے اس مشکیزے کے منہ کا وہ حصہ(جس سے آپﷺ کادہن مبارک مس ہوا تھا۔)کاٹ کررکھ لیا۔(جامع الترمذی الاشربہ حدیث 1892)اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اگرچہ مشکیزے کو منہ لگا کر پینے کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔اور آپﷺ نے اس سے روکا ہے۔ لیکن یہ نہی نہی تحریمی نہیں۔اسے معمول بنائے بغیر ضرورت کے وقت ایسا کیا جاسکتا ہے۔جس طرح اگلی حدیث میں وارد ہوا۔آپﷺکا یہ عمل امت کےلئے آسانی پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔اس طرح کا ایک واقعہ مسند احمد میں ام سلیم رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے۔(مسند احمد 376/6)نیز سفر حج میں بھی نبی کریمﷺ نے زمزم کھڑے ہوکر پیا تھا۔(صحیح البخاری الحج۔حدیث 1637)