Book - حدیث 3695

كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابٌ فِي الْأَوْعِيَةِ صحیح حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عَوْفٍ عَنْ أَبِي الْقَمُوصِ زَيدِ بْنِ عَلِيٍّ حَدَّثَنِي رَجُلٌ كَانَ مِنْ الْوَفْدِ الَّذِينَ وَفَدُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ يَحْسَبُ عَوْفٌ أَنَّ اسْمَهُ قَيْسُ بْنُ النُّعْمَانِ فَقَالَ لَا تَشْرَبُوا فِي نَقِيرٍ وَلَا مُزَفَّتٍ وَلَا دُبَّاءٍ وَلَا حَنْتَمٍ وَاشْرَبُوا فِي الْجِلْدِ الْمُوكَى عَلَيْهِ فَإِنْ اشْتَدَّ فَاكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ فَإِنْ أَعْيَاكُمْ فَأَهْرِيقُوهُ

ترجمہ Book - حدیث 3695

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل باب: شراب کے برتنوں کا بیان ابوالقموص زید بن علی سے روایت ہے کہ اس نے وفد عبدالقیس کے ایک آدمی سے نقل کیا جو اس وفد میں شریک تھا جو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا ۔ ( راوی حدیث ) عوف کا خیال ہے کہ اس کا نام قیس بن نعمان تھا ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” لکڑی کے برتن ‘ روغن زفت والے برتن ‘ کدو کے برتن ( تونبے ) یا سبز روغن ملے برتن میں مت پیو ‘ بلکہ چمڑے کے مشکیزے میں پیو جس کا منہ باندھا جاتا ہے ‘ اگر نبیذ میں شدت آ جائے ( ترش ہو جائے ) تو اس کی شدت کو پانی ڈال کر ختم کر لو ‘ اگر وہ ختم نہ ہو تو اسے بہا دو ۔ “ فائدہ۔نبیذ میں ترشی کی ابتداء ہی ہوئی ہوا اور مزید پانی ڈال کر اسے عام مشروب بنانا ممکن ہو تو بنایا جاسکتا ہے لیکن بہت زیادہ ترش ہوجانے یا نشہ آور ہوجانے کی صورت میں ایسا نہیں کیا جاسکتا۔پھر اس کو بہادینا ہی ضروری ہے۔