Book - حدیث 3690

كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابٌ فِي الْأَوْعِيَةِ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَا نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ

ترجمہ Book - حدیث 3690

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل باب: شراب کے برتنوں کا بیان سیدنا عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس ؓم سے روایت ہے ، ان دونوں نے کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کدو کے برتن ( تونبہ ) ‘ سبز رنگ کا برتن جس میں روغن مل لیا جاتا تھا ‘ روغن زفت لگے برتن اور چوبی برتن سے منع فرمایا ہے ۔ فائدہ۔اسلام سے پہلے لوگ جن برتنوں میں شراب بنایاکرتھے تھے۔رسول اللہ ﷺنے ان میں نبیذ (پھلوں کھجوروں کشمش اوردیگر خشک یا تر پھلوں کا پانی کے زریعے بنایا ہواآمیزہ ) جوبطور مشروب استعمال ہوتاتھا بنا کر پینے سے منع فرمادیا اس غرض سے عموما چار قسم کے برتن استعمال کئے جاتے ہیں۔ 1۔الدباء بڑے سائز کے کدو جب خشک ہوجاتے تو ان کے اندر کاگودا وغیرہ نکال کر سخت خول کو برتن کے طور پر استعمال کیا جاتاتھا۔افریقہ کے ملکوں میں آج بھی اس کارواج ہے۔وہاںایسے کدو بھی پائے جاتے ہیں جو نیچے سے گول ہوتے ہیں۔اوراوپر کی طرف ان کی بہت لمبی گردن ہوتی ہے۔ان کو بھی اند ر سے خالی کرکےمشروب وغیرہ کے برتن کے طور پراستعمال کیا جاتا ہے۔یہ بالکل صراحی کی شکل کاہوتا ہے۔فارسی شاعری میں اس لئے کدو کالفظ شراب کے برتن یا صراحی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔اس کے باہر کی سطح سخت اور نم پروف جبکہ اندر کی سطح اسفنجی ہوتی ہے اور اس کو شراب کےلئے استعمال کیا جائے۔تودھونے کے باوجود اس کی اندرونی اسفنجی سطح میں خامرہ یعنی وہ مادہ جونبیذ کے رس وغیرہ میں خمیر اٹھانے کا سبب بن جاتا ہے۔موجود ہوتا ہے۔اس لئے ایسے برتنوں میں پھلوں کارس تیار کرنے یا رکھنے سے منع کردیا گیاہے۔ 2۔حنتم شراب بنانے کی غرض سے مٹی کےبڑے بڑے برتنوں کو اس طرح بنایا جاتا تھا کہ کہ ان کی مٹی گوندھتے وقت اس میں خون اور بال ملادیے جاتے۔اس سے ان برتنوں کا رنگ سیاہی مائل سبز ہوجاتا تھا۔غرض یہ ہوتی تھی کہ اس کی سطح سے ہوا کاگزربند ہوجائے۔اورتخمیرکا عمل تیز اورشدیدہوجائے۔دیکھئے۔(فتح الباری کتاب الاشربہ۔باب ترخیص النبی ﷺ فی الاوعیۃ)ایسے برتنوں کے اندرہواکی بندش کو یقینی بنانے کےلئے کوئی روغن وغیرہ بھی لگادیا جاتاتھا۔یہ برتن اپنی ساخت میں گندے اورغلیظ ہونے کے علاوہ اندرونی سطح پر شراب کے خامروں کو چھپائے رکھتے تھے۔جن کی وجہ سے اس میں بھی تیزی سے تخمیر کا عمل شروع ہوجاتاتھا۔ 3۔مزقت وہ برتن جس کے اندرروغن زفت ملایا گیا ہو۔یہ تارکول سے ملتا جلتا معدنی روغن ہے۔(لسان العرب) زفت ملنے کا مقصد بھی وہی تھا کہ ہوا کاگزر نہ ہو اورشراب سازی کےلئے عمل تخمیر جلد اورشدت سے شروع ہوجائے۔یہ بھی دوسرے برتنوں کی طرح شراب کے خامروں کا حامل ہوتا تھا۔اس کے علاہ روغن ملنے کی وجہ سے چیچیا اور ناصاف بھی ہوتا تھا۔ 4۔نقیر کھجور کے تنے کو اندر سے کھوکھلاکر تے لیکن اس کی جڑٰیں اس طرح زمین میں رہنے دیتے ظاہر ہے کہ اس کا صحیح طور پردھوناممکن نہ تھا۔ نیز اس کے اندرونی سطح پر شراب کے خامرے اوردوسری گندگی بھی موجود رہتی تھی۔اس میں پھلوں وغیرہ کا مشروب (نبیذ بنایا جاتا۔)تو وہ جلد شراب میں تبدیل ہوجاتاتھا۔اسکا استعمال بھی ممنوع قراردیاگیا۔ عرب ان برتنوں میں شراب کے علاوہ نبیز بھی بناتے تھے۔اور اس میں بہت جلد ترشی آجاتی تھی۔چونکہ یہ لوگ پہلے ان برتنوں کے مشروبات اورشراب کے عادی تھے تو انہیں معمولی نشے کااحساس بھی نہ ہوتا تھا۔اس لئے حرمت شراب کی ابتداءمیں ان برتنوں کے استعمال سے بھی منع فرمادیا گیا۔مگربعد ازاں اجازت دے دی گئی تھی۔