Book - حدیث 3660

كِتَابُ الْعِلْمِ بَابُ فَضْلِ نَشْرِ الْعِلْمِ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ مِنْ وَلَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: >نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ<.

ترجمہ Book - حدیث 3660

کتاب: علم اور اہل علم کی فضیلت باب: اشاعت علم کی فضیلت سیدنا زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا آپ ﷺ فرماتے تھے ” اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش و خرم اور شاداب رکھے جس نے ہم سے کوئی حدیث سنی پھر اسے حفظ کیا اور یاد رکھا تاکہ اسے پہنچائے ‘ بہت سے علم و فقہ کے حامل اپنے سے بڑھ کر زیادہ دانا اور فقیہ لوگوں کو پہنچاتے ہیں ‘ اور بہت سے علم و فقہ کے حامل ایسے ہوتے ہیں جو درحقیقت دانا اور فقیہ نہیں ہوتے ۔ “ فوائد ومسائل۔1۔صاحب حدیث کو لازم ہے۔ کہ نقل الفاظ میں حفظ وامانت کو پیش نظر رکھے۔ البتہ فہمواستنباط ایک وہبی ملکہ ہے۔جو اللہ تعالیٰ مختلف طبقات میں اصحاب علم کو عنایت فرماتارہتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ براہ راست سننے والا وہ کچھ نہ سمجھ سکے۔جو اس کے شاگرد کی سمجھ میں آجائے۔2۔یہ بھی معلوم ہوا کہ علم شریعت کا مدار براہ راست اساتذہ سے پڑھنے اور سننے میں ہے۔ جو شخص محض کتابیں پڑھ کر کوئی چیز سمجھتاہے۔ وہ اتنا معتمد نہیں جتنا کہ اساتذہ سے پڑھنے اور سننے والا ہوسکتاہے۔ محض کتابوں سے پڑھنے والے کو محدثین کی اصطلاح میں صحفی کہا جاتا ہے۔3۔ حدیث میں وارد فقہ وفقیہ کے الفاظ معروف اصطلاحی کلمات نہیں ہیں۔ جو کہ بہت بعد میں ایجاد ہوئے ہیں۔اس سے مراد فہم واستنباط مسائل کا وہبی ملکہ ہے۔