Book - حدیث 363

كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ الْمَرْأَةُ تَغْسِلُ ثَوْبَهَا الَّذِي تَلْبَسُهُ فِي حَيْضِهَا صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْحَدَّادُ حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ تَقُولُ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يَكُونُ فِي الثَّوْبِ قَالَ حُكِّيهِ بِضِلْعٍ وَاغْسِلِيهِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ

ترجمہ Book - حدیث 363

کتاب: طہارت کے مسائل باب: عورت اپنے ایام حیض میں استعمال ہونے والے کپڑے کو دھوئے سیدہ ام قیس بنت محصن ؓا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے خون حیض کے متعلق دریافت کیا جو کہ کپڑے کہ لگ جاتا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا ” اسے کسی لکڑی سے اکھیڑو پھر بیری کے پتے ملے پانی سے دھو ڈالو ۔ “ خون حیض نجس ہے، اس کو اہتمام سےصاف کرنا چاہیے کہ کوئی ذراسا اثر باقی نہ رہے ۔سادہ پانی سےدھونا بھی کافی ہے، مگر بیری کےپتے ملا پانی مزید نظافت کےلیے ہے۔جیسے کہ آج کل صابن سوڈے سے یہ کام لیا جاتا ہے۔کپڑے پڑداغ باقی رہ جانے کا کوئی حرج نہیں۔