Book - حدیث 3612

كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ بَابُ الْقَضَاءِ بِالْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ ضعیف حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ شُعَيْثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْبِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي الزُّبَيْبَ، يَقُولُ: بَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَيْشًا إِلَى بَنِي الْعَنْبَرِ، فَأَخَذُوهُمْ بِرُكْبَةَ مِنْ نَاحِيَةِ الطَّائِفِ، فَاسْتَاقُوهُمْ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَكِبْتُ، فَسَبَقْتُهُمْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، أَتَانَا جُنْدُكَ فَأَخَذُونَا، وَقَدْ كُنَّا أَسْلَمْنَا وَخَضْرَمْنَا آذَانَ النَّعَمِ، فَلَمَّا قَدِمَ بَلْعَنْبَرِ، قَالَ لِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >هَلْ لَكُمْ بَيِّنَةٌ عَلَى أَنَّكُمْ أَسْلَمْتُمْ قَبْلَ أَنْ تُؤْخَذُوا فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ؟<، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: >مَنْ بَيِّنَتُكَ؟<، قُلْتُ: سَمُرَةُ, رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ، وَرَجُلٌ آخَرُ سَمَّاهُ لَهُ، فَشَهِدَ الرَّجُلُ، وَأَبَى سَمُرَةُ أَنْ يَشْهَدَ! فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >قَدْ أَبَى أَنْ يَشْهَدَ لَكَ! فَتَحْلِفُ مَعَ شَاهِدِكَ الْآخَرِ؟<. قُلْتُ: نَعَمْ، فَاسْتَحْلَفَنِي، فَحَلَفْتُ بِاللَّهِ: لَقَدْ أَسْلَمْنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، وَخَضْرَمْنَا آذَانَ النَّعَمِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >اذْهَبُوا، فَقَاسِمُوهُمْ أَنْصَافَ الْأَمْوَالِ<، وَلَا تَمَسُّوا ذَرَارِيَّهُمْ, لَوْلَا أَنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ ضَلَالَةَ نَمَل, مَا رَزَيْنَاكُمْ عِقَالًا<، قَالَ الزُّبَيْبُ: فَدَعَتْنِي أُمِّي، فَقَالَتْ: هَذَا الرَّجُلُ أَخَذَ زِرْبِيَّتِي، فَانْصَرَفْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَعْنِي: فَأَخْبَرْتُهُ-، فَقَالَ لِي: >احْبِسْهُ<، فَأَخَذْتُ بِتَلْبِيبِهِ، وَقُمْتُ مَعَهُ مَكَانَنَا، ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمَيْنِ، فَقَالَ: >مَا تُرِيدُ بِأَسِيرِكَ؟<، فَأَرْسَلْتُهُ مِنْ يَدِي، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلرَّجُلِ: >رُدَّ عَلَى هَذَا زِرْبِيَّةَ أُمِّهِ، الَّتِي أَخَذْتَ مِنْهَا!<، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! إِنَّهَا خَرَجَتْ مِنْ يَدِي! قَالَ: فَاخْتَلَعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَ الرَّجُلِ، فَأَعْطَانِيهِ، وَقَالَ لِلرَّجُلِ: >اذْهَبْ فَزِدْهُ آصُعًا مِنْ طَعَامٍ<. قَالَ: فَزَادَنِي آصُعًا مِنْ شَعِيرٍ.

ترجمہ Book - حدیث 3612

کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل باب: ایک گواہ اور ایک قسم پر فیصلہ کرنا سیدنا زبیب بن ثعلبہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا ایک لشکر بنو عنبر کی طرف روانہ کیا ۔ انہوں نے طائف کے مضافات میں ( مقام رکبہ ) رکبہ مقام پر اس قبیلے کو جا پکڑا اور انہیں نبی کریم ﷺ کی طرف لے آئے ۔ میں سوار ہوا اور ان سے پہلے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچ گیا ۔ میں نے کہا : ” اے اللہ کے نبی ! آپ پر سلامتی ہو اور آپ پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ۔ آپ کا لشکر ہمارے ہاں پہنچا اور اس نے ہمیں پکڑ لیا حالانکہ ہم نے ( پہلے ہی ) اسلام قبول کر لیا تھا اور اپنے جانوروں کے کان بھی کاٹ ڈالے تھے ۔ جب بنو عنبر کے لوگ پہنچ گئے تو نبی کریم ﷺ نے مجھ سے پوچھا : ” کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے کہ تم پکڑے جانے سے پہلے ان ایام میں مسلمان ہو چکے تھے ؟ “ میں نے کہا : ہاں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” تیرے گواہ کون ہیں ؟ “ میں نے عرض کیا کہ بنو عنبر کا ایک فرد سمرہ اور ایک دوسرے آدمی کا نام لیا ۔ چنانچہ اس دوسرے نے شہادت دی لیکن سمرہ نے شہادت دینے سے انکار کیا ۔ پس نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” اس نے گواہی دینے سے انکار کیا ۔ پس نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” اس نے گواہی دینے سے انکار کیا ہے ‘ لہٰذا تجھے اپنے دوسرے گواہ کے ساتھ قسم اٹھانا ہو گی ۔ “ میں نے کہا : ہاں ( اٹھاؤں گا ) تو آپ ﷺ نے مجھ سے قسم لی اور میں نے کہا کہ اللہ کی قسم ! ہم لوگ فلاں فلاں روز اسلام قبول کر چکے تھے اور اپنے جانوروں کے کان کاٹ چکے تھے ۔ ( یہ اسلام اور عدم اسلام کے درمیان فرق کرنے کا ایک انداز تھا ۔ ) تب نبی کریم ﷺ نے ( اپنے مجاہدین سے ) فرمایا ” جاؤ اور ان سے نصف نصف اموال لے لو اور ان کے اولادوں کو ہاتھ مت لگاؤ ۔ ( انہیں غلام مت بناؤ ) اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ تعالیٰ کسی کے عمل ( اور اس کی محنت ) کو ضائع نہیں فرماتا ہے تو ہم تم سے ایک رسی بھی نہ لیتے ۔“ زبیب نے کہا : پھر مجھے میری والدہ نے بلایا اور بتایا کہ اس آدمی نے مجھ سے میری توشک لی ہے ۔ میں نبی کریم ﷺ کے پاس گیا یعنی آپ ﷺ کو خبر دی تو آپ ﷺ نے مجھے فرمایا ” اسے روکو ۔ “ تو میں نے اس کو گریبان سے پکڑ لیا اور اپنی جگہ پر اس کے ساتھ رکا رہا ۔ پھر نبی کریم ﷺ نے ہمیں کھڑے دیکھا تو فرمایا ” تو اپنے قیدی کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے ؟ “ تو میں نے اس کو چھوڑ دیا ۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے اور اس آدمی سے فرمایا ” اس کی ماں کی توشک جو تو نے اس سے لی ہے اس کو واپس کر دو ۔ “ اس نے کہا : اے اللہ کے نبی ! وہ مجھ سے ضائع ہو گئی ہے ۔ تو نبی کریم ﷺ نے اس کی تلوار اتاری اور مجھے دے دی اور اسے فرمایا ” جاؤ اور غلے کے چند صاع اور مزید بھی دو ۔ “ چنانچہ اس نے مجھے کئی صاع جَو بھی دے دیے ۔ فائدہ۔یہ روایت سندا ضعیف ہے۔ امام ابو دائود غالبا اسے اس لئے لائے ہیں کہ اس کی طرف توجہ مبذول کرایئں۔ کہ اگر مدعی دو گواہ پیش نہیں کرسکتا۔ تو ایک گواہ کے ساتھ وہ قسم کھائے گا۔تاکہ نصاب شہادت پورا ہوجائے۔ا س سے پہلے صحیح روایت کے الفاظ سے بھی یہ واضح ہوتا کہ ایک گواہ کی کمی کو قسم سے پورا کیا جاسکتا ہے۔ اگر ایک بھی گواہ موجود نہ ہو تو قسم مدعا علیہ کے لئے ہوگی۔جس طرح حدیث 3619) میں بیان ہوا ہے۔