Book - حدیث 3600

كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ بَابُ مَنْ تُرَدُّ شَهَادَتُهُ حسن حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ شَهَادَةَ الْخَائِنِ، وَالْخَائِنَةِ، وَذِي الْغِمْرِ عَلَى أَخِيهِ، وَرَدَّ شَهَادَةَ الْقَانِعِ لِأَهْلِ الْبَيْتِ, وَأَجَازَهَا لِغَيْرِهِمْ<. قَالَ أَبو دَاود: الْغِمْرُ: الْحِنَةُ وَالشَّحْنَاءُ. وَالْقَانِعُ: الْأَجِيرُ التَّابِعُ مِثْلُ الْأَجِيرِ الْخَاصِّ.

ترجمہ Book - حدیث 3600

کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل باب: کن لوگوں کی گواہی قبول نہیں جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ ( شعیب ) اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خائن مرد ‘ خائن عورت اور اپنے بھائی کے ساتھ کینہ اور بغض رکھنے والے کی گواہی رد فرمائی ہے ۔ اور ایسے ہی جو کسی گھر والوں کا خدمت گار ( نوکر ‘ غلام اور تابع ) ہو ‘ اس کی گواہی بھی قبول نہیں کی ۔ البتہ دوسروں کے حق میں قبول ہے ۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں «الغمر» کا معنی بغض و عداوت ہے ۔ اور «القانع» سے مراد تابع رہنے والا ہے جیسے کہ کوئی خاص نوکر ہوتا ہے ۔ توضیح۔خائن یا خائنہ کی گواہی مطلقاً مردود ہے۔اس میں مالی خیانت اور زبانی خیانت (جھوٹ) دونوں ایک جیسے ہیں۔لیکن کینہ پرور اور بغیض کی گواہی میں اس صورت میں مردو ہے۔ جب معاملہ ان کے ساتھ ہو جن کے ساتھ اس کی دشمنی ہو۔اگرسچا ہے تو دوسرے لوگوں میں مقبول ہوگی۔اسسی طرح ہی نوکراور غلام کی طرح کے تابع قسم کے لوگوں کی گواہی اپنے ولی کے حق میں قبول نہیں۔اگر سچے ہیں تودوسروں کے حق میں قبول ہے۔