Book - حدیث 3589

كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ بَابُ الْقَاضِي يَقْضِي وَهُوَ غَضْبَانُ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ:، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى ابْنِهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >لَا يَقْضِي الْحَكَمُ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ<.

ترجمہ Book - حدیث 3589

کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل باب: قاضی کا غصے کی حالت میں فیصلہ کرنا جناب عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے صاحبزادے کی طرف لکھ بھیجا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” کوئی حکم ( فیصلہ کرنے والا ) غصے کی حالت میں دونوں فریقوں میں فیصلہ نہ کرے ۔ “ فائدہ۔طیش کی حالت میں انسان بالعموم حد اعتدال سے تجاوز کرجاتا ہے۔تو اس کیفیت میں فیصلہ عین ممکن ہے کہ عدل کے خلاف ہولہذا اس سے بچنا ضروری ہے۔انتہائی غم ۔شدید فکرمندی۔کسی بیماری کے سبب تکلیف۔اوردرد اور اسی طرح کی کیفیتیں جن میں یکسوئی متاثر ہو غصے پرقیاس کی جایئں گی۔