Book - حدیث 3581

كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ بَابٌ فِي هَدَايَا الْعُمَّالِ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ حَدَّثَنِي قَيْسٌ قَالَ حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ عُمَيْرَةَ الْكِنْدِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عُمِّلَ مِنْكُمْ لَنَا عَلَى عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِنْهُ مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ فَهُوَ غُلٌّ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ أَسْوَدُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ قَالَ وَمَا ذَاكَ قَالَ سَمِعْتُكَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا قَالَ وَأَنَا أَقُولُ ذَلِكَ مَنْ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَأْتِ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَهُ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى

ترجمہ Book - حدیث 3581

کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل باب: حکام ‘ قاضی اور دیگر اہلکاروں کے لیے ہدایا کا مسئلہ سیدنا عدی بن عمیرہ کندی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” لوگو ! تم میں سے جس کسی کو ہماری طرف سے کوئی عملداری سونپی گئی ہو ‘ پھر اس نے اس کے محاصل میں سے کوئی سوئی یا اس سے بھی کم یا زیادہ کو چھپا لیا ‘ تو وہ طوق ہے جسے پہنے ہوئے وہ قیامت کے روز حاضر ہو گا ۔ “ تو کالے سے رنگ کا ‘ ایک انصاری جوان کھڑا ہو گیا ‘ گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں ۔ کہنے لگا : اے اﷲ کے رسول ! مجھ سے اپنا کام واپس لے لیجئیے ۔ آپ ﷺ نے پوچھا ” کیا ہوا ؟ “ اس نے کہا : میں نے آپ کو سنا ہے کہ آپ یوں یوں فر رہے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” ( ہاں ) میں یہی کہتا ہوں ۔ جس کو ہم نے کوئی کام سونپا ہو تو اسے چاہیئے کہ اس کے محاصل ‘ تھوڑے ہوں یا زیادہ ‘ سب لے آئے ۔ اور پھر اس میں سے جو اسے ( حق الخدمت ) دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روک دیا جائے اس سے رک جائے ۔ “ فائدہ۔تمام ملی اور اجتماعی امور کی ذمہ اری انتہائی اہم ہے۔اس میں محاصل کی ذمہ داری بھی شامل ہے۔اس میں ذرا سی بھی غفلت اور کوتاہی انسان کے لئے آخرت کا وبال ہے۔ایسی زمہ داریاں ادا کرنے والے کواگرکہیں سے ہدایا ۔تحائف یا دیگر منافع حاصل ہو۔تو وہ اس کے لئے حلال نہیں۔ایسی تمام اشیاء اسے خزانے میں جمع کرانی ہوں گی۔ نیز حاکم اعلیٰ پر بھی لازم ہے کہ اپنے بندوں کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرتا رہے۔اورآخرت میں اللہ کے ہاں جواب دہی کی یاد دلاتا ہے۔اورخود بھی متنبہ اور محتاط رہے۔