Book - حدیث 3552

کِتَابُ الْإِجَارَةِ بَابٌ فِي الْعُمْرَى صحیح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَعُرْوَةَ، عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ. قَالَ أَبو دَاود: وَهَكَذَا رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ.

ترجمہ Book - حدیث 3552

کتاب: اجارے کے احکام و مسائل باب: عمریٰ یعنی زندگی بھر کے لیے عطا کر دینا سیدنا جابر ؓ نے نبی کریم ﷺ سے اسی کے ہم معنی بیان کیا ۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ لیث بن سعد نے بواسطہ زہری ابوسلمہ سے ‘ انہوں نے سیدنا جابر ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔ سیدنا جابر ؓ نے نبی کریم ﷺ سے اسی کے ہم معنی بیان کیا ۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ لیث بن سعد نے بواسطہ زہری ابوسلمہ سے ‘ انہوں نے سیدنا جابر ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔ فائدہ۔مذکورہ اور درج زیل باب کی تمام احادیث پر نظر ڈالنے سے یہی واضح ہوتا ہے کہ عمر بھر کے لئے عطیہ دینے والے نے موہوب لہ کی اولاد کازکر کیا ہویا نہ کیا ہو یہ اس کی اولاد کو منتقل ہوجائےگا۔اگردینے والا بالقرض عمر بھر کی صراحت کر بھی دے تو بقول بعض شراح وفقہاء یہ شرط لغو ہے ۔اس کا کوئی اعتبار نہیں اور یہی راحج ہے۔(ان شاء اللہ) تاہم فقہاء میں بعض ایسے بھی ہیں جو اسے عاریت کے مفہوم میں باور کرتے ہوئے واپس ہوجانے کے قائل ہیں۔