Book - حدیث 3527

کِتَابُ الْإِجَارَةِ بَابٌ فِي الرَّهْنِ صحیح حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ, وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ لَأُنَاسًا مَا هُمْ بِأَنْبِيَاءَ، وَلَا شُهَدَاءَ، يَغْبِطُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ, يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِمَكَانِهِمْ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى<. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تُخْبِرُنَا مَنْ هُمْ؟ قَالَ: >هُمْ قَوْمٌ تَحَابُّوا بِرُوحِ اللَّهِ عَلَى غَيْرِ أَرْحَامٍ بَيْنَهُمْ، وَلَا أَمْوَالٍ يَتَعَاطَوْنَهَا، فَوَاللَّهِ إِنَّ وُجُوهَهُمْ لَنُورٌ، وَإِنَّهُمْ عَلَى نُورٍ، لَا يَخَافُونَ إِذَا خَافَ النَّاسُ، وَلَا يَحْزَنُونَ إِذَا حَزِنَ النَّاسُ< وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ}[يونس: 62].

ترجمہ Book - حدیث 3527

کتاب: اجارے کے احکام و مسائل باب: گروی رکھنے کے احکام و مسائل سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” اللہ کے بندوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو نبی ہوں گے نہ شہید ، مگر قیامت کے روز اللہ کے ہاں ( بلند ) مراتب و منازل کی وجہ سے انبیاء و شہداء بھی ان پر رشک کریں گے ۔ “ صحابہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہمیں بتائیں ، وہ کون لوگ ہوں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” یہ وہ لوگ ہوں گے جو آپس میں اللہ کی کتاب ( یا اللہ کے ساتھ محبت ) کی بنا پر محبت کرتے تھے ۔ حالانکہ ان کا آپس میں کوئی رشتہ ناتا یا مالی لین دین نہ تھا ۔ اللہ کی قسم ! ان کے چہرے نور ہوں گے اور وہ لوگ نور پر ہوں گے ۔ جب لوگ خوف زدہ ہو رہے ہوں گے ، تو انہیں کوئی خوف نہ ہو گا ۔ جب لوگ غمگین و پریشان ہو رہے ہوں گے ، تو انہیں کوئی غم اور پریشانی نہ ہو گی ۔ “ آپ ﷺ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی «ألا إن أولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنو» ” آگاہ رہو ! اللہ کے ولیوں کو کوئی خوف ہو گا ، نہ وہ غم کھائیں گے ۔ “ فائدہ۔اس حدیث کا کتاب الرہن سے بظاہر کوئی ربط معلوم نہیں ہوتا۔سوائے اس کے کہ اہل ایمان میں فی اللہ محبت کی بنا پر بخوشی ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں۔اورانھیں ایک دوسرے پر کامل اعتماد ہوتا ہے۔اور رہن دینا لینا کوئی واجب نہیں ہے۔قرآن مجید میں ہے۔ ( فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُم بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَهُ )(البقرۃ۔283) اور اگر تم میں سے کوئی دوسرے پر اعتبار کرے تو جس شخص پراعتبار کیا گیا ہو اسے چاہیے کہ دوسرے کی امانت واپس ادا کردے۔ یعنی رہن(گروی)رکھنا۔ایک دوسرے پر عدم اعتماد اورامانت ودیانت کے فقدان کی دلیل ہے۔جہاں ا س کے برعکس صورت حال ہوگی۔یعنی ایک دوسرے کی امانت ودہیانت پر اعتماد ہوگا۔ وہاں رہن کے بغیر بھی قرض لینے دینے میں نقصان کا خظرہ نہیں ہوگا۔اور ایسا ہی معاشرہ اسلام کامثالی معاشرہ ہے۔اس حدیث میں اسی معاشرے کی طرف اشارہ ہے۔