Book - حدیث 3503

کِتَابُ الْإِجَارَةِ بَابٌ فِي الرَّجُلِ يَبِيعُ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! يَأْتِينِي الرَّجُلُ فَيُرِيدُ مِنِّي الْبَيْعَ، لَيْسَ عِنْدِي، أَفَأَبْتَاعُهُ لَهُ مِنَ السُّوقِ؟ فَقَالَ: >لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ<.

ترجمہ Book - حدیث 3503

کتاب: اجارے کے احکام و مسائل باب: جو چیز انسان کے پاس نہ ہو اس کا فروخت کرنا سیدنا حکیم بن حزام ؓ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ایک آدمی میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے ایسی چیز خریدنی چاہتا ہے جو میرے پاس نہیں ہوتی ‘ تو کیا میں اس کے لیے بازار سے خرید لوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” جو تیرے پاس نہیں ہے وہ مت بیچ ۔ “ توضیح ۔دوکاندار بعض اوقات اپنے گاہکوں کی کئی مطلوبہ چیزیں جو ان کے پاس نہیں ہوتیں۔ اسی وقت بازار سے منگوا کر دیتے ہیں۔اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ یہ گاہک بس انہی سے متعلق رہے یہ صورت جائز نہیں۔وہی سودا بیچنا چاہیے۔جوموجود نہ ہو۔الا یہ کہ گاہک از خود دوکاندار سے چیز منگوا کر دینے کا مطالبہ کرے۔2۔کوئی جانور جو بھاگ گیا ہو اسے فروخت کردینا۔ یا کوئی مال فریقین میں متنازع ہو۔تو فیصلہ اور قبضہ ہونے سے پہلے ہی فروخت کردینا جائز نہیں۔3۔کوئی چیز خرید رکھی ہو مگر وصول نہ کی ہو۔ اور قبضے میں نہ آئی ہو۔تو ا س کو بیچنا ناجائز ہے۔خیال رہے کہ معروف تجارتی طریق پر بیع سلف (سلم)کا معاملہ جائز ہے۔جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔