Book - حدیث 3417

کِتَابُ الْإِجَارَةِ بَابٌ فِي كَسْبِ الْمُعَلِّمِ صحیح حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ عَمْرٌو و، حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ نُسَيٍّ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ... نَحْوَ هَذَا الْخَبَرِ، وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ فَقُلْتُ: مَا تَرَى فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: >جَمْرَةٌ بَيْنَ كَتِفَيْكَ، تَقَلَّدْتَهَا أَوْ تَعَلَّقْتَهَا!<.

ترجمہ Book - حدیث 3417

کتاب: اجارے کے احکام و مسائل باب: تعلیم دینے والے کی کمائی کا بیان جناب جنادہ بن ابی امیہ ؓ نے ، سیدنا عبادہ بن صامت ؓ سے اس حدیث کی مانند روایت کیا اور پہلی روایت زیادہ کامل ہے ۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! اس کی بابت آپ کی کیا رائے ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ” یہ انگارہ ہے جسے تو نے اپنے کندھوں کے درمیان ڈال لیا ہے ۔ “ فائدہ۔معلم(قرآن) کی کمائی قرآن مجید کی تعلیم دینے والے کی اجرت پرفقہاء نے طویل بحثیں کی ہیں۔مختلف روایات عمل صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمیعن اور آثار سلف کو سامنے رکھا جائے۔تو قرآن مجید کی تعلیم کے حوالے سے تین صورتیں سامنے آتی ہیں۔2۔قرآن مجید کی تعلیم مسلمان معاشرے کی اجتماعی زمہ داری ہے۔تمام ایسے لوگ جو قرآن مجید کا علم رکھتے ہیں۔ ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے کام کاج سے وقت نکا ل کر قرآن مجید کی تعلیم دیں۔جس طرح عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اصحاب صفہ رضوان اللہ عنہم اجمیعن میں سے کچھ لوگوں کو قرآن پڑھاتے تھے۔ یہ عمل خالصتا لوجہ اللہ ہونا چاہیے۔اس پرکسی طرح کی اجرت لینا ناجائز ہے۔ اس باب کی دونوں حدیثوں کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے اس سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے لیکن دوسری روایات سے اس کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ جیسے حضرات صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمیعن کا ایک سفر میں دم کرکے اس کے بدلے میں بکریاں لینے کا واقعہ ہے جس کی نبی کریم ﷺ نے نفی فرمائی۔بلکہ اس کی توثیق فرماکر اس کی تحسین فرمائی (صحیح البخاری۔الاجارۃ۔باب ما یعطی فی الرقیۃ)یہ واقعہ یہاں بھی اگلے باب میں آرہا ہے۔ان دونوں قسم کی روایات میں تطبیق کی یہی صورت ہے۔کہ تعلیم قرآن پر اس شخص کا اجرت لینا مستحسن نہیں جو اس سے بے نیاز ہو تاہم دوسرے لوگوں کےلئے اس کے جواز سے مفر نہیں۔بالخصوص جب کہ موجودہ مسلمان ممالک میں حکومتی سطح پرتعلیم وتدریس قرآ ن کا قطعا کوئی اہتمام نہیں ہے۔2۔رسول اللہ ﷺ یہ خبر دی کہ بعد کے زمانوں میں لوگ قرآن مجید پڑھ کر اس کے زریعے لوگوں سے سوال کیا کریں گے۔(جامع الترمذی فضائل القرآن باب ۔25)اس سے مراد ایسے لوگ ہیں۔جن کا پیشہ ہی مانگنا ہوتا ہے۔بھیک کےلئے قرآن کو استعمال کرنا چونکہ قرآن کی عظمت وحرمت کے منافی ہے۔اس لئے واقعی یہ انداز مذموم اور حرام ہے۔3۔اگر کوئی حکومت یا ادارہ محسوس کرے۔کہ قرآن مجید کی تعلیم کے لئے عمومی کوششیں ناکافی ہیں۔اور وہ ایسے لوگوں کی خدمات حاصل کریں۔جو دیگر زرائع معاش کو ترک کرکے صرف اسی کام میں مشغول ہوجایئں۔اور ہمہ وقت مدارس میں قرآن مجید کی تعلیم دیں۔تو ان کے لئے مناسب وظیفہ معاش مقرر کرنا جائز ہے۔جس طرح کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ انتظام کیا تھا کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمات حاصل کرکے انھیں شام بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو قرآن مجید پڑھایئں۔اور فقہ سکھایئں (اسد الغابہ۔3۔تذکرہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ )حضرت عمران بن حصین کو حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دین سکھانے کےلئے بصرہ روانہ فرمایا۔(اسد الغابہ۔4۔تذکرہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ )یہ بات قابل غو ر ہے کہ اپنے طور پرقرآن پڑھانے کی اجرت سےمنع کرنے کی روایات حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی سے منقول ہیں۔ یہی حضرات قرآن مجید کی قراءت او ر تعلیم کیطرف متوجہ تھے۔اور یقینا ً اس پر کوئی اجرت قبول نہ فرماتے تھے۔لیکن جب حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے باقاعدہ حکومت کی طرف سے ان کی خدمات حاصل کیں تو انہوں نے یہ منصب قبول کرلیا۔