Book - حدیث 3393

كِتَابُ الْبُيُوعِ بَابٌ فِي الْمُزَارَعَةِ صحیح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ فَقَالَ أَبِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَلَا بَأْسَ بِهِ

ترجمہ Book - حدیث 3393

کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل باب: مزارعت یعنی بٹائی پر زمین دینا جناب حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا رافع بن خدیج ؓ سے پوچھا کہ زمین کو کرایہ پر دینا کیسا ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے ۔ میں نے پوچھا کہ کیا سونے اور چاندی کے بدلے بھی منع ہے ؟ تو کہا کہ سونے اور چاندی کے بدلے میں کوئی حرج نہیں ۔ ان سب احادیث سے یہ ثابت ہوا کہ زمیندار (مزارعت میں ) ایک ہی کھیت میں اپنے اور مزارع کےلئے الگ الگ حصوں کی پیداوار متعین کرلے تو اسطرح کی مزارعت ناجائز ہے۔اور یہی وہ فاسد شرط ہے۔جس کی موجودگی میں بٹائی کو ممنوع قراردیا گیا ہے۔یہ قباحت نہ ہو بلکہ زمین متعین رقم یعنی ٹھیکے پردی جائےتو اس میں کوئی حرج نہیں۔