Book - حدیث 338

كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابٌ فِي الْمُتَيَمِّمِ يَجِدُ الْمَاءَ بَعْدَ مَا يُصَلِّ فِي الْوَقْتِ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَسَيَّبِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: خَرَجَ رَجُلَانِ فِي سَفَرٍ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمَا مَاءٌ، فَتَيَمَّمَا صَعِيدًا طَيِّبًا فَصَلَّيَا، ثُمَّ وَجَدَا الْمَاءَ فِي الْوَقْتِ، فَأَعَادَ أَحَدُهُمَا الصَّلَاةَ وَالْوُضُوءَ وَلَمْ يُعِدِ الْآخَرُ، ثُمَّ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ: «أَصَبْتَ السُّنَّةَ، وَأَجْزَأَتْكَ صَلَاتُكَ». وَقَالَ لِلَّذِي تَوَضَّأَ وَأَعَادَ: «لَكَ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَغَيْرُ ابْنِ نَافِعٍ، يَرْوِيهِ عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ عُمَيْرَةَ بْنِ أَبِي نَاجِيَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «وَذِكْرُ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ وَهُوَ مُرْسَلٌ»

ترجمہ Book - حدیث 338

کتاب: طہارت کے مسائل باب: تیمم والے کو نماز پڑھ لینے کے بعد پانی مل جائے اور نماز کا وقت ابھی باقی ہو تو...؟ سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ دو آدمی سفر پر نکلے اور نماز کا وقت ہو گیا ۔ ان کے پاس پانی نہیں تھا ۔ انھوں نے پاک مٹی سے تیمم کر کے نماز پڑھ لی ، مگر ابھی نماز کا وقت باقی تھا کہ پانی مل گیا تو ان میں سے ایک نے وضو کر کے نماز دہرا لی اور دوسرے نے نہ دہرائی ۔ پھر وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور آپ ﷺ کو اپنا واقعہ بتایا ، تو آپ ﷺ نے اس سے ، جس نے نماز نہیں دہرائی تھی ، فرمایا ” تم نے سنت پر عمل کیا اور تمہارے لیے تمہاری نماز کافی ہو گئی ۔ “ اور جس نے وضو کر کے نماز دہرائی تھی ، اسے فرمایا ” تمہارے لیے دہرا اجر ہے ۔ “ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں : ابن نافع کے علاوہ ایک دوسرے صاحب نے اسے لیث سے انہوں نے عمیرہ بن ابی ناجیہ سے انہوں نے بکر بن سوادہ سے انہوں نے عطاء بن یسار سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ اس حدیث میں ابوسعید کا ذکر محفوظ نہیں ہے اور یہ حدیث مرسل ہے ۔