Book - حدیث 3363

كِتَابُ الْبُيُوعِ بَابٌ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا صحیح حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا

ترجمہ Book - حدیث 3363

کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل باب: بیع عرایا جائز ہے سیدنا سہل بن ابی حثمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تازہ کھجور کی خشک کھجور کے ساتھ بیع سے منع فرمایا ہے ۔ لیکن عرایا کی رخصت دی ہے کہ انسان تازہ کھجور کا اندازہ کر کے ( خشک کے بدلے خرید لے ) تاکہ وہ لوگ تازہ کھجور کھا سکیں ۔ عرایا عریہ کی جمع ہے۔اس کا مطلب ومفہوم یہ ہے کہ عاریتا کسی کھجور کے ایک یا دو درخت دے دینا یہ حسن سلوک کا عمل ہے۔جب اپنے باغ کے درختوں میں سے کوئی درخت عاریتاً ہمسایئوں یا دوسرے مستحقین کودیا جائےتو ان کا بار بار آناجانا شاق گزر سکتا ہے۔ اپنے ہی درختوں کے دیئے ہوئے تازہ پھل کا خشک کھجور سے تبادلہ رسول اللہ ﷺ نے جائز قراردیا۔تاکہ حسن سلوک کا عمل بار بار آنے جانے کی زحمت کے سبب منقطع نہ ہوجائے۔ غیر متعین مقدار کے تازہ پھل کی خشک پھل سےبیع کو ممنوع قراردیا گیا۔توعرایا کے مستحسن اقدام کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا عرایا میں تازہ کھجور کا خشک کھجور سے تبادلہ کوئی تجارتی عمل نہیں۔رسول اللہ ﷺنے اس اجازت کو پانچ وسق کی مقدار تک محدود فرمادیا ہے۔(صحیح البخاری۔باب بیع التمر علی رووس النخل بالذھب اوالفضۃ حدیث2190)