Book - حدیث 3357

كِتَابُ الْبُيُوعِ بَابٌ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ ضعیف حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ حَرِيشٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُجَهِّزَ جَيْشًا فَنَفِدَتْ الْإِبِلُ فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ فِي قِلَاصِ الصَّدَقَةِ فَكَانَ يَأْخُذُ الْبَعِيرَ بِالْبَعِيرَيْنِ إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ

ترجمہ Book - حدیث 3357

کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل باب: جانور ادھار بیچنے کا جواز سیدنا عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ لشکر کی تیاری کریں مگر اونٹ ختم ہو گئے ‘ تو آپ ﷺ نے ان کو حکم دیا کہ صدقہ کی اونٹنیاں آنے تک ادھار لے لیں ۔ چنانچہ وہ صدقہ کے آنے تک دو دو اونٹوں کے بدلے ایک ایک اونٹ حاصل کر لیا کرتے تھے ۔ 1۔ایک طرف سے نقد اوردوسری طرف سے ادھار ہو تو جائز ہے۔جیسے کہ اس حدیث میں ہے۔مگر دونوں طرف سے ادھار بالکل ناجائز ہے۔2۔سابقہ باب کی حدیث سے بھی جانوروں کی جانوروں سے بیع میں کمی بیشی اور ایک طرف کے ادھار کا جواز واضح ہوتا ہے۔یہ دونوں حدیثیں ان لوگوں کے خلاف حجت ہیں۔جوناپ تول کی طرح گننے کی اشیاء کو بھی رباتعداد کو بھی ربا الفضل کی علت میں شامل کرتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے (درهما بدرهمين يا دينار ابدينارين)فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ درہم ودینار کا انحصار وزن پرتھا۔