Book - حدیث 3334

كِتَابُ الْبُيُوعِ بَابٌ فِي وَضْعِ الرِّبَا صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ حَدَّثَنَا شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَقُولُ أَلَا إِنَّ كُلَّ رِبًا مِنْ رِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ لَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ أَلَا وَإِنَّ كُلَّ دَمٍ مِنْ دَمِ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ وَأَوَّلُ دَمٍ أَضَعُ مِنْهَا دَمُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ كَانَ مُسْتَرْضِعًا فِي بَنِي لَيْثٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ قَالَ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ قَالُوا نَعَمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

ترجمہ Book - حدیث 3334

کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل باب: سود کی رقم چھوڑ دینے کا بیان جناب سلیمان بن عمرو اپنے والد ( عمرو بن احوص جشمی ؓ ) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حجۃ الواداع میں رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ” خبردار ! جاہلیت کے تمام سود باطل کیے جاتے ہیں ، تمہارے لیے تمہارا اصل مال ہے ، ظلم کرو نہ ظلم کیے جاؤ ، خبردار ! جاہلیت کے تمام خون باطل کیے جاتے ہیں اور سب سے پہلا خون جو میں ختم کر رہا ہوں حارث بن عبدالمطلب کا خون ہے ، جو بنو لیث میں دودھ پیتا بچہ تھا اور بنو ہذیل نے اسے قتل کر دیا تھا ۔ “ راوی نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اے اللہ ! میں نے پہنچا دیا ۔ “ سب حاضرین نے کہا : ہاں ۔ آپ ﷺ نے تین بار کہلوایا ۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا ” اے اللہ ! گواہ رہنا ۔ “ تین بار کہا ۔ 1۔سود لینا بلاشبہ حرام ہے۔البتہ یہ سود کا سرمایہ جو بنکوں کے پاس ہوتا ہے۔سودی نظام کے زریعے سے مجموعی قومی دولت سے ہتھیا یا ہوا ہوتاہے۔اس لئے اگر بنک میں کوئی سود بنتا ہو تو اسے لے کرعام شہری ضروریات میں خرچ کردیا جائے۔مثلا ہسپتال۔سکول۔سڑک۔اور پل وغیرہ کی تعمیر یا کسی ایسے شخص کو دے دیاجائے جو کسی دوسرے ایسے مرض کے پھندے میں پھنس گیا ہو۔چونکہ یہ مملکت کی رقم ہوتی ہے۔اس لئے اسے مملکت کے عام شہریوں کے لئے بلا تخصیص مسلم وکافر خرچ کیا جانا چاہیے۔(افادات حضرت الشیخ مولانا سلطان محمود )اس رقم کو ان ظالموں کے لئے چھوڑ دینا خلاف مصلحت ہے ۔واللہ اعلم۔2۔اہل قیادت کےلئے اس میں عظیم در س ہے۔ کہ قیادت اور دعوت کے معاملے میں اپنا اور اپنے اقارب کا دامن بالخصوص صاف رکھا جائے۔ورنہ عام لوگوں کی طرف سے تنقید کانشانہ بنتا پڑتا ہے۔اوردعوت بھی مقبول نہیں ہوتی۔امام ابودائود نے یہاں رباکے حوالے سے دو احادیث زکر کی ہیں۔پہلی میں سود کے لین دین میں حصہ لینے والے تمام فریقوں پر لعنت کی گئی ہے۔اوردوسری میں یہ ہے کہ اگر کوئی سودی لین دین موجود ہے تو صرف اصل زرکی وصولی ہوگی۔رسول اللہ ﷺ کے الفاظ سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے۔ کہ جوکچھ اصل زر سے زائد ہے وہ سود ہے اور اس کا لینا اور دینا دونوں حرام ہیں۔قرآن مجید میں بھی اسی طرح کے الفاظ ہیں۔( فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ)(البقرہ۔279)اس لئے یہ کہنا کہ بنک کاسود جو یقینا اصل زرسے زائد ہوتا ہے ربا نہیں بالکل غلط ہے۔قرآن مجید کی آیت اور اس حدیث نے سود کی واضح تعریف کردی ہے۔ یعنی وہ جو اصل زر سے زائد مانگا جائے وہ سود ہے۔اور اس کا لینا دینا دونوں حرام ہیں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ بنک اسی پیسے سے نفع کماتا ہے اس لئے بنک سے زائد لینا کیونکر حرام ہوا؟حقیقت یہ ہے کہ اسلام اس منافع کی تقسیم کا قائل ہے۔جو واقعتاً تجارت سے حاصل ہو۔اس کی صورت یہ ہے کہ منافع کا آدھا یا تہائی یا چوتھائی طے کرلیا جائے۔دوسری شرط یہ ہے کہ مال بطور قرض نہ دیا گیاہو بلکہ تجارت میں شمولیت میں یا گیا ہو تجارت کے نفع نقصان کی زمہ داری میں سب شریک ہوں۔اسی طرح اگر منافع حاصل ہو اور جتنا واقعتاً حاصل ہو اسے طے شدہ نسبت سے تقسیم کرلیا جائے۔جہاں تجارت میں شراکت داری کا معاہدہ نہ ہو نفع ہونے نہ ہونے زیادہ ہونے یا کم ہونے کی کسی زمہ داری میں دونوں فریق شامل نہ ہوں۔مال بطورقرض دیا جائے۔ اور اس پر مقرر شرح سے زائد لینے کا معاہدہ کرلیا جائے حتیٰ کہ اگر تجارت میں نقصان ہوجائے تو بھی اصل زر بمع مقرر شدہ اضافہ ہر صورت میں وصول کیاجانا ہوتو یہی اصل زر پر اضافہ ہے جو سود اور قطعی حرام ہے۔حدیث اور قرآن کی آیت میں ہے۔( لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ) تم اصل زر لے لو نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔اس کا معنی یہ ہے کہ اصل زر سے زیادہ مانگ کر تم دوسرے فریق پر ظلم نہ کرو اور نہ اصل زر کی ادایئگی روک کردوسرا فریق تم پر ظلم کرے۔اب تو فریقین کے ایک دوسرے پر ظلم کی کئی نئی صورتیں پیدا ہوگئی ہیں۔بنک غریب لوگوں بیوائوں یتیموں کا مال لے کر اس سے بے پناہ منافع حاصل کرتا ہے۔چونکہ اصل لین دین کرنسی کی بجائے محض چیک سے ہوتا ہے۔اس لئے کرنسی کابہت بڑا حصہ بنک کے پاس جوں کا توں محفوظ رہتا ہے۔اس محفوظ سرمایہ کی بنیاد پر بنک میں موجودکرنسی سے زیادہ کے قرضے اور کارڈ ایشو کردیئے جاتے ہیں۔اورکئی گنا منافع حاصل ہوتاہے۔اتنازیادہ منافع کمانے کے باوجود وہ اپنی بچتیں جمع کرانے والے غریب لوگوں یتیموں اور بیوائوں کو اس میں سے برائے نام بہت تھوڑا سا منافع دے کر ان کا باقی ماندہ بڑا حصہ خود ہڑپ کرجاتا ہے۔جو کچھ لوگوں کودیا جاتا ہے۔وہ منافع تو کجا کرنسی کی قیمت میں وقتا فوقتا جو کمی جان بوجھ کرکی جاتی ہے۔ اس کے برابر بھی نہیں ہوتا۔اس طرح بنک جو سود دیتاہے۔اس میں بھی ظلم کرتاہے۔یہ بڑی دھوکا دیہی ہے لوگوں کو جھانسا دیا جاتا ہے۔ کہ ہم آپ کو کما کر منافع میں سے حصہ دے رہے ہیں۔یعنی تجارت کے منافع میں شریک کررہے ہیں لیکن ان سے معاہدہ تجارتی شراکت کا نہیں کیا جاتا۔ کیونکہ اس طرح بہت زیادہ حصہ دینا پڑتا ہے۔ان سے معاہدہ قرض اور سود کاکیا جاتاہے۔اس لوٹ ماراور فریب دہی کی واردات کو قانون اور حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔حدیث نمبر 3333 کی رو سے سودی بنکوں کی ملازمت بھی حرام ہے۔کیونکہ سودی کاروبار میں ہر طرح کی شرکت لکھنا گواہ بننا سب موجب لعنت ہے۔