Book - حدیث 3326

كِتَابُ الْبُيُوعِ بَابٌ فِي التِّجَارَةِ يُخَالِطُهَا الْحَلْفُ وَاللَّغْوُ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: كُنَّا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ، فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ أَحْسَنُ مِنْهُ، فَقَالَ: >يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ! إِنَّ الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ وَالْحَلْفُ, فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ<.

ترجمہ Book - حدیث 3326

کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل باب: تجارت جس کے ساتھ قسم اور لغو باتیں مخلوط ہو جائیں سیدنا قیس بن ابی غرزہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں ہم تاجروں کو «سماسرة» ( دلال ) کہا جاتا تھا ، تو نبی کریم ﷺ ہمارے پاس سے گزرے اور ہمیں اس سے بہتر نام دیا اور فرمایا ” اے تاجروں کی جماعت ! خرید و فروخت اور لین دین میں بہت سی بے جا باتیں ہوتی ہیں اور قسمیں بھی کھائی جاتی ہیں ، تو اس میں صدقہ ملا لیا کرو ۔“ یعنی مال صدقہ کرتے رہنا مذکورہ غلط باتوں کاکفارہ ہوتاہے۔جیسے اللہ کا فرمان ہے۔( إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ)(ھود۔114) نیکیاں گناہوں کومٹا دیتی ہیں۔ خرید وفروخت کے دوران میں دونوں فریقوں کو اپنی اپنی جگہ آذادی سے جانچ پڑتال اور غور وخوض کرکے فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔لیکن عمومادوکاندار جوکاروباری معاملات میں زیادہ تجربہ کارہوتے ہیں۔ جھوٹ ۔ملمع سازی۔اورچکنی چپڑی باتوں کے زریعےسے خریدارکے آذادفیصلے پر اثر انداز ہوجاتے ہیں۔قسم بھی خواہ سچی ہویاجھوٹی دوسرے فریق کے فیصلے میں جھکائوپیداکرتی ہے۔چیز کوبیچنے کےلئے یہ حربے کبھی اتنے سنگین ہوتے ہیں۔کہ شریعت کی رو سے حرام قرارپاتے ہیں۔اورکبھی یہ حربے ہلکے پھلکےاور کم ضرررساں ہوتےہیں۔ یہ بھی اللہ کی ناراضگی کا سبب بنتے ہیں۔اس لئے تاجروں کوصدقے کاحکم دیاگیا ہے۔تاکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی دور ہوسکے۔ آگے باب 6 حدیث3335 میں اسی بات کو نبی کریمﷺ نے اس طرح بیان فرمایا ہے۔ قسم سودا زیادہ فروخت کرنے کا ذریعہ ہے مگر اس سے برکت ختم ہوجاتی ہے۔(قسم برکت کو مٹا دیتی ہے )