Book - حدیث 3316

كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ بَابُ فِي النَّذْرِ فِيمَا لَا يَمْلِكُ صحیح حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ كَانَتْ الْعَضْبَاءُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ وَكَانَتْ مِنْ سَوَابِقِ الْحَاجِّ قَالَ فَأُسِرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي وَثَاقٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ عَلَامَ تَأْخُذُنِي وَتَأْخُذُ سَابِقَةَ الْحَاجِّ قَالَ نَأْخُذُكَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ ثَقِيفَ قَالَ وَكَانَ ثَقِيفُ قَدْ أَسَرُوا رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَقَدْ قَالَ فِيمَا قَالَ وَأَنَا مُسْلِمٌ أَوْ قَالَ وَقَدْ أَسْلَمْتُ فَلَمَّا مَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو دَاوُد فَهِمْتُ هَذَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى نَادَاهُ يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ قَالَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا شَأْنُكَ قَالَ إِنِّي مُسْلِمٌ قَالَ لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ قَالَ أَبُو دَاوُد ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى حَدِيثِ سُلَيْمَانَ قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي إِنِّي ظَمْآنٌ فَاسْقِنِي قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ حَاجَتُكَ أَوْ قَالَ هَذِهِ حَاجَتُهُ فَفُودِيَ الرَّجُلُ بَعْدُ بِالرَّجُلَيْنِ قَالَ وَحَبَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَضْبَاءَ لِرَحْلِهِ قَالَ فَأَغَارَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى سَرْحِ الْمَدِينَةِ فَذَهَبُوا بِالْعَضْبَاءِ قَالَ فَلَمَّا ذَهَبُوا بِهَا وَأَسَرُوا امْرَأَةً مِنْ الْمُسْلِمِينَ قَالَ فَكَانُوا إِذَا كَانَ اللَّيْلُ يُرِيحُونَ إِبِلَهُمْ فِي أَفْنِيَتِهِمْ قَالَ فَنُوِّمُوا لَيْلَةً وَقَامَتْ الْمَرْأَةُ فَجَعَلَتْ لَا تَضَعُ يَدَهَا عَلَى بَعِيرٍ إِلَّا رَغَا حَتَّى أَتَتْ عَلَى الْعَضْبَاءِ قَالَ فَأَتَتْ عَلَى نَاقَةٍ ذَلُولٍ مُجَرَّسَةٍ قَالَ فَرَكِبَتْهَا ثُمَّ جَعَلَتْ لِلَّهِ عَلَيْهَا إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ لَتَنْحَرَنَّهَا قَالَ فَلَمَّا قَدِمَتْ الْمَدِينَةَ عُرِفَتْ النَّاقَةُ نَاقَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَجِيءَ بِهَا وَأُخْبِرَ بِنَذْرِهَا فَقَالَ بِئْسَ مَا جَزَيْتِيهَا أَوْ جَزَتْهَا إِنْ اللَّهُ أَنْجَاهَا عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ قَالَ أَبُو دَاوُد وَالْمَرْأَةُ هَذِهِ امْرَأَةُ أَبِي ذَرٍّ

ترجمہ Book - حدیث 3316

کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل باب: آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو اس میں نذر نہیں سیدنا عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ ( رسول اللہ ﷺ ) کی عضباء اونٹنی ( پہلے ) بنو عقیل کے ایک آدمی کے پاس تھی اور یہ حاجیوں کی سب سواریوں سے آگے رہتی تھی ۔ چنانچہ وہ آدمی قید کر لیا گیا اور نبی کریم ﷺ کے حضور پیش کیا گیا جبکہ وہ بندھا ہوا تھا اور نبی کریم ﷺ اپنے گدھے پر تھے اس پر ایک کپڑا ڈالا گیا تھا ۔ اس نے کہا : اے محمد ! تم نے مجھے کیوں پکڑا ہے اور اس اونٹنی کو بھی جو حاجیوں کی سواریوں سے آگے رہتی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” ہم نے تجھے تیرے حلفاء بنو ثقیف کے جرم میں پکڑا ہے ۔ “ راوی نے کہا : بنو ثقیف نے نبی کریم ﷺ کے دو صحابہ کو قید کر لیا تھا ۔ اس آدمی نے دوران گفتگو یہ بھی کہا : میں مسلمان ہو چکا یا کہا : میں نے اسلام قبول کر لیا ہے ۔ پھر جب نبی کریم ﷺ چل دیے ۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا : میں نے حدیث کا یہ حصہ محمد بن عیسیٰ سے سمجھا ہے ۔ اس شخص نے پکارا : اے محمد ! اے محمد ! اور نبی کریم ﷺ بہت ہی رحیم اور نرم دل تھے ‘ تو آپ ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا : کیا بات ہے ؟ اس نے کہا : بیشک میں مسلمان ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” اگر تو یہ بات اس وقت کہتا جب تو اپنے معاملے کا مالک تھا تو کامل طور پر فلاح پا جاتا ۔“ امام ابوداؤد ؓ نے کہا : میں پھر سلیمان کی روایت کی طرف لوٹتا ہوں ، اس آدمی نے کہا : اے محمد ! میں بھوکا ہوں مجھے کھانا کھلاؤ ۔ میں پیاسا ہوں مجھے پانی پلاؤ ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” ( ہاں ) یہ تیری حاجت ( برحق ) ہے ۔ “ یا فرمایا ” یہ اس کی ضرورت ہے ۔ “ الغرض اسے بعد میں دو آدمیوں کے فدیے میں چھوڑا گیا ۔ اور رسول اللہ ﷺ نے عضباء اونٹنی کو اپنی سواری کے لیے روک لیا ۔ راوی نے بیان کیا کہ اس کے بعد مشرکین نے مدینہ کے باہر چرتے جانوروں پر ڈاک ڈالا اور عضباء اونٹنی کو بھی لے گئے ۔ جب وہ اسے لے گئے تھے تو مسلمانوں کی ایک عورت کو بھی قید کر کے لے گئے ۔ وہ لوگ رات کے وقت اپنے اونٹوں کے اپنے باڑوں میں چھوڑ دیتے تھے ۔ ایک رات ان پر نیند طاری کر دی گئی تو وہ عورت اٹھی ( کہ فرار ہو جائے ) ‘ تو جس اونٹ پر بھی وہ ہاتھ رکھتی وہ بلبلانے لگتا حتیٰ کہ عضباء اونٹنی کے پاس آئی تو گویا ایک نرم خو اور سفر کی عادی اونٹنی کے پاس آ گئی ( اور وہ بلبلائی نہیں ) تو وہ اس پر سوار ہو گئی ۔ پھر اس نے اپنے لیے یہ نذر مانی کہ اگر اللہ نے اسے نجات دے دی تو وہ اس اونٹنی کو بالضرور ذبح کر دے گی ۔ چنانچہ جب وہ مدینہ پہنچی تو اونٹنی پہچان لی گئی کہ یہ نبی کریم ﷺ کی ہے ۔ پس نبی کریم ﷺ کو اس کی خبر دی گئی تو آپ ﷺ نے اسے بلوایا ‘ اسے لایا گیا ۔ اور اس کی نذر کے متعلق بتایا گیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” اس نے اسے بہت برا بدلہ دیا ۔ “ یا فرمایا ” تو نے اسے بہت برا بدلہ دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے ذریعے سے نجات دی اور یہ اسے نحر کرنے چلی ہے ۔ جس کام میں اللہ کی معصیت ہو یا ایسی چیز جس کا انسان مالک نہ ہو ‘ اس میں نذر نہیں ۔ “ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں یہ خاتون سیدنا ابوذر ؓ کی اہلیہ تھی ۔ اس واقعہ میں چونکہ یہ خاتون اس اونٹنی کی مالک نہ تھی۔اس لئے اس کی نذر لغو قرار دی گئی۔اور یہ بھی معلوم ہواکہ اضطراری صورت میں عورت اکیلے سفر کرسکتی ہے۔