Book - حدیث 3313

كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ بَابُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنْ الْوَفَاءِ بِالنَّذْرِ صحیح حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ قَالَ حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ قَالَ نَذَرَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَةَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ كَانَ فِيهَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاهِلِيَّةِ يُعْبَدُ قَالُوا لَا قَالَ هَلْ كَانَ فِيهَا عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِهِمْ قَالُوا لَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْفِ بِنَذْرِكَ فَإِنَّهُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ

ترجمہ Book - حدیث 3313

کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل باب: نذر پوری کرنے کا حکم سیدنا ثابت بن ضحاک ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ مقام بوانہ پر ایک اونٹ ذبح کرے گا ۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا : بیشک میں نے بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا ” کیا وہاں جاہلیت کا کوئی بت تھا جس کی عبادت ہوتی رہی ہو ؟ “ صحابہ نے کہا : نہیں ۔ آپ ﷺ نے پوچھا : کیا وہ جگہ ان کی میلہ گاہ تھی ؟ ” صحابہ نے کیا نہیں ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اپنی نذر پوری کر لے ‘ تحقیق ایسی نذر کی کوئی وفا نہیں جس میں اللہ کی نافرمانی ہو ‘ اور نہ اس کی جو انسان کی ملکیت میں نہ ہو ۔ “ ایسےمقامات جہاں اہل کفر وشرک اور اہل بدعت اپنے مخصوص اعمال سر انجام دیتے ہوں۔متبع سنت مسلمان کو ان جگہوں میں اللہ کی عبادت سے بچنا چاہیے۔اسی طرح وہ مخصوص ایام و تواریخ بھی جن میں ان لوگوں نے اپنی بدعات کوشہرت دے رکھی ہو ان میں ان کے سے اعمال خیر سے بچنا افضل ہے۔تاکہ ان سے اور ان کی بدعات سے براءت کا اظہار ہو۔