Book - حدیث 3283

كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ بَابٌ فِي الرَّقَبَةِ الْمُؤْمِنَةِ حسن حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنِ الشَّرِيدِ، أَنَّ أُمَّهُ أَوْصَتْهُ أَنْ يَعْتِقَ عَنْهَا رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أُمِّي أَوْصَتْ أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، وَعِنْدِي جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ نُوبِيَّةٌ... فَذَكَرَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبو دَاود: خَالِدُ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَرْسَلَهُ لَمْ يَذْكُرِ الشَّرِيدَ

ترجمہ Book - حدیث 3283

کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل باب: مومن گردن ( لونڈی / غلام ) کے بیان میں جناب شرید بن سوید ثقفی ؓ کہتے ہیں کہ ان کی والدہ نے ان کو وصیت کی کہ وہ اس کی طرف سے ایک ایماندار ( لونڈی یا غلام ) کی گردن آزاد کر دیں ۔ چنانچہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : اے اﷲ کے رسول ! میری والدہ نے وصیت کی ہے کہ میں اس کی طرف سے ایک مومن گردن آزاد کر دوں ‘ تو میرے پاس نوبی قبیلے کی سیاہ رنگ لونڈی ہے اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند روایت کیا ۔ تو کیا میں اسے آزاد کر دوں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اسے میرے پاس بلاؤ ۔ چنانچہ اسے بلایا تو وہ آئی ۔ نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا ” تیرا رب کون ہے ؟ “ اس نے کہا : اﷲ ۔ آپ ﷺ نے پوچھا ” میں کون ہوں ؟ “ اس نے کہا : رسول اﷲ ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” اس کو آزاد کر دو بلاشبہ یہ مومن ہے ۔ “ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں ( دوسری سند میں ) خالد بن عبداللہ نے اسے مرسل بیان کیا ہے اور شرید کا ذکر نہیں کیا ۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں رنگ نسل کی نہیں ایمان وعمل کی اہمیت ہے۔