Book - حدیث 3271

كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ بَابٌ فِيمَنْ حَلَفَ عَلَى طَعَامٍ لَا يَأْكُلُهُ صحیح حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ وَعَبْدُ الْأَعْلَى عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ... بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَهُ. زَادَ، عَنْ سَالِمٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ وَلَمْ يَبْلُغْنِي كَفَّارَةٌ.

ترجمہ Book - حدیث 3271

کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل باب: اگر کوئی قسم کھا لے کہ یہ کھانا نہیں کھاؤں گا ابوعثمان نے سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکر ؓ سے یہ حدیث مذکورہ بالا حدیث کی مانند روایت کی اور ابن مثنی نے سالم کی اس حدیث میں مزید کہا : مجھے یہ بات نہیں پہنچی کہ ( سیدنا ابوبکر ؓ نے ) کفارہ بھی دیا ۔ 1۔یہ دلچسپ حدیث صحیح بخاری میں تفصیل سے پڑھنے کے لائق ہے۔(صحیح البخاری ۔مواقیت الصلواۃ حدیث 602) اس میں ہے کہ ایک کرامت ظاہر ہوئی کہ کھانا بڑھ گیا۔اور پھر وہ اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھی لے گئے 2۔اس میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے اہل بیت کی بہت بڑی فضیلت کا بیان ہے۔ اوریہ کہ مہمان نوازی ایک اہم شرعی حق ہے۔3۔شرعی ضرورت کے تحت عشاء کے بعد ضروری امور سرانجام دینا جائز ہے۔4۔مہمانوں کے ساتھ مل کر کھانے میں ایکدوسرے کا اکرام ہے۔اور یہ ایک مستحب عمل ہے۔5۔شرعی حقوق کی کوتاہی میں بڑی عمرکی اولاد کو دوسروں کےسامنے بھی ڈانٹ ڈپٹ کی جاسکتی ہے۔6۔کسی بات پر قسم کھائی ہو لیکن اس کادوسرا پہلو زیادہ بہتر ہو تو قسم توڑ دینی چاہیے۔7۔ اولیاء اور صالحین کی کرامات حق ہیں۔8۔مذکورہ بالا صورت میں اگر کسی نے قسم توڑی ہو تو کفارہ لازم آتا ہے۔ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قصے میں کفارے کا زکر ویسے ہی نہیں آیا۔کچھ نے کیا ہے کہ ممکن ہے یہ واقعہ وجوب کفارہ سے پہلے کا ہو اور کچھ نے اسے لغو قسم شمار کیا ہے۔مگر یہ متبادر نہیں ہے۔