Book - حدیث 3258

كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَلْفِ بِالْبَرَاءَةِ وَبِمِلَّةٍ غَيْرِ الْإِسْلَامِ صحیح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ فَقَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنْ الْإِسْلَامِ فَإِنْ كَانَ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا فَلَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْإِسْلَامِ سَالِمًا

ترجمہ Book - حدیث 3258

کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل باب: اسلام سے بری ہو جانے یا غیر مسلم ہونے کی قسم کھانا سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” جس نے قسم کھائی کہ میں اسلام سے بری ہوں ، تو اگر وہ جھوٹا ہوا تو وہ وہی ہوا جو اس نے کہا اور اگر سچا بھی ہوا تو اسلام کی طرف صحیح سالم نہیں لوٹے گا ۔ “ اسلام اللہ کادین اور بندوں کے لئے عظیم ترین نعمت ہے۔چنانچہ سچے جھوٹے کسی طرح سے بھی اس کے بری ہونے کے الفاظ زبان پر لانا جائز اور حرام ہے۔اگر کسی نے سچے ہوتے ہوئے اس طرح کہہ دیا تو بہت بڑے گناہ کا مرتکب ہوا۔علامہ خطابی فرماتے ہیں۔کہ ایسی قسم کا مالی کفارہ نہیں ہے۔اس کا عتاب اس کے دین کا نقصان قرار دیا گیا ہے۔