Book - حدیث 3241

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ الْمُحْرِمِ يَمُوتُ كَيْفَ يُصْنَعُ بِهِ صحیح حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَقَصَتْ بِرَجُلٍ مُحْرِمٍ نَاقَتُهُ فَقَتَلَتْهُ فَأُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اغْسِلُوهُ وَكَفِّنُوهُ وَلَا تُغَطُّوا رَأْسَهُ وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُهِلُّ

ترجمہ Book - حدیث 3241

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل باب: محرم اگر فوت ہو جائے تو اس کے ساتھ کیسے کیا جائے ؟ جناب سعید بن جبیر ؓ ، سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک محرم آدمی کو اس کی سواری نے گرا دیا اور اس کی گردن توڑ دی اور اس سے وہ فوت ہو گیا ، اس کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ” اسے غسل دو ، کفن پہناؤ لیکن سر نہ ڈھانپو اور نہ خوشبو ہی لگاؤ ، بلاشبہ یہ تلبیہ پکارتے ہوئے اٹھایا جائے گا ۔“ حالت احرام میں موت کی بڑی فضیلت ہے۔کہ اس کا عمل قیامت تک جاری رہے گا۔اور اس پر قیاس ہے۔کہ اگر کوئی طالب علم یا جہاد میں فوت ہوجائے۔ اور وہ اپنے اس عمل کوپورا کرنے کا عزم رکھتا ہو تو اسے ان شاء اللہ قیامت تک کےلئے اس کا ثواب ملتا رہے گا۔