Book - حدیث 3227

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابٌ فِي الْبِنَاءِ عَلَى الْقَبْرِ صحیح حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال:َ >قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ<.

ترجمہ Book - حدیث 3227

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل باب: قبر پر عمارت بنانا سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک کرے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ۔ “ 1۔قبروں پرمسجدیں بنانا یا مسجدوں کے پاس اموات کودفن کرنا دونوں ہی صورتیں ناجائز ہیں۔خیال رہے کہ ر سول اللہ ﷺ کی قبر مبارک کا مسجد نبوی میں آجانا ایک اتفاقی واقعہ ہے۔آپﷺ کا اپنے اس حجرے میں دفن ہونا آپ کی خصوصیت تھی۔اور اسوقت یہ حجرہ مسجد سے الگ تھا۔2۔زائر حرم نبوی کے لئے واجب ہے کہ اگر وہ قبر نبوی کے قریب بھی نماز پڑھے۔توقلبی طور پر اللہ کی طرف لو لگائے رہے۔اور بیت اللہ الحرام کو اپنا قبلہ سمجھے۔کسی قبر کو قبلہ بنا کر نماز پڑھنا حرام ہے۔اس موضوع پر علامہ البانی کی تالیف تحزیر المساجد ایک اہم قابل مطالعہ کتاب ہے۔ قبروں پرمسجدین اور اسلام کے نام سے اس کا ترجمہ ہوچکا ہے۔