Book - حدیث 3220

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابٌ فِي تَسْوِيَةِ الْقَبْرِ ضعیف حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ هَانِئٍ عَنْ الْقَاسِمِ قَالَ دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا أُمَّهْ اكْشِفِي لِي عَنْ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبَيْهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَكَشَفَتْ لِي عَنْ ثَلَاثَةِ قُبُورٍ لَا مُشْرِفَةٍ وَلَا لَاطِئَةٍ مَبْطُوحَةٍ بِبَطْحَاءِ الْعَرْصَةِ الْحَمْرَاءِ قَالَ أَبُو عَلِيٍّ يُقَالُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقَدَّمٌ وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَ رَأْسِهِ وَعُمَرُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ رَأْسُهُ عِنْدَ رِجْلَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ترجمہ Book - حدیث 3220

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل باب: قبر برابر کر دینے کا بیان جناب قاسم ( ابن محمد بن ابی بکر الصدیق ؓ ) کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اماں جان ! مجھے رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے دو ساتھیوں کی قبریں دکھائیں ‘ تو انہوں نے میری خاطر پردہ ایک طرف کیا ۔ تین قبریں تھیں جو نہ تو اونچی تھیں اور نہ زمین کے ساتھ برابر ‘ بلکہ قدرے اونچی تھیں اور سرخ میدان کی کنکریاں ان پر ڈالی گئی تھیں ۔ جناب ابوعلی لؤلؤی ( راوی سنن ابی ابوداؤد ) سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی قبر آگے ہے اور ابوبکر ؓ ان کے سر کے پاس ہیں اور عمر ؓ ان کے پاؤں کے پاس یعنی سیدنا عمر ؓ کا سر رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں ہے ۔ 1۔یہ روایت ضعیف ہے۔اور چاہیے کہ قبر زمین سے بالشت بھر اونچی ہو۔2۔حضرہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں قبروں کی ترتیب میں دو قول معروف ہیں۔ایک یوں ہے۔نبی کریم ﷺ ۔ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دوسرا یوں ہے۔نبی کریمﷺ عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ (بذل المجہود 189/14 مطبوعہ دارلباز)