Book - حدیث 3200

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ ضعیف حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبُو الْجُلَاسِ عُقْبَةُ بْنُ سَيَّارٍ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ شَمَّاخٍ قَالَ شَهِدْتُ مَرْوَانَ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجَنَازَةِ قَالَ أَمَعَ الَّذِي قُلْتَ قَالَ نَعَمْ قَالَ كَلَامٌ كَانَ بَيْنَهُمَا قَبْلَ ذَلِكَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا وَأَنْتَ خَلَقْتَهَا وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْإِسْلَامِ وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِسِرِّهَا وَعَلَانِيَتِهَا جِئْنَاكَ شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهُ قَالَ أَبُو دَاوُد أَخْطَأَ شُعْبَةُ فِي اسْمِ عَلِيِّ بْنِ شَمَّاخٍ قَالَ فِيهِ عُثْمَانُ بْنُ شَمَّاسٍ وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ الْمُوصِلِيَّ يُحَدِّثُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ قَالَ مَا أَعْلَمُ أَنِّي جَلَسْتُ مِنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ مَجْلِسًا إِلَّا نَهَى فِيهِ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ وَجَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ

ترجمہ Book - حدیث 3200

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل باب: میت کے لیے دعا کا بیان سیدنا مروان بن حکم نے سیدنا ابوہریرہ ؓ سے سوال کیا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کو جنازہ پڑھتے ہوئے کیسے سنا ہے ؟ سیدنا ابوہریرہ ؓ نے کہا : کیا اس سب کے باوجود جو تم نے کہا ہے ؟ اس نے کہا : ہاں ۔ راوی نے وضاحت کی کہ ان دونوں کے مابین اس سے پہلے کوئی بات ہوئی تھی ۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ نے کہا : آپ ﷺ یہ دعا پڑھا کرتے تھے «اللهم أنت ربها ، وأنت خلقتها ، وأنت هديتها للإسلام ، وأنت قبضت روحها ، وأنت أعلم بسرها وعلانيتها ، جئناك شفعاء ، فاغفر له» ” اے اللہ ! تو اس میت کا رب ہے ، تو نے ہی اسے پیدا کیا ہے اور دین اسلام کی ہدایت دی ہے اور تو نے ہی اس کی روح قبض کی ہے اور تو اس کے باطن اور ظاہر سے بخوبی آگاہ ہے ، ہم اس کے سفارشی بن کر آئے ہیں تو اسے معاف فر دے “ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں : شعبہ نے سند کے ایک راوی علی بن شماخ کے نام میں غلطی کرتے ہوئے اسے عثمان بن شماس کہہ دیا ہے ۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا : میں نے احمد بن ابراہیم موصلی سے سنا جو امام احمد بن حنبل ؓ سے روایت کرتے تھے کہ میں جب بھی حماد بن زید کی مجلس میں بیٹھا تو وہ عبدالوارث اور جعفر بن سلیمان سے روایت لینے سے منع کرتے تھے ۔ یہ روایت حسن درجہ کی ہے۔ اس لئے جنازے کی دیگر دعائوں کے ساتھ ساتھ اس کا پڑھنا بھی جائز ہے۔