Book - حدیث 3193

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابٌ إِذَا حَضَرَ جَنَائِزُ رِجَالٍ وَنِسَاءٍ مَنْ يُقَدَّمُ صحیح حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ صَبِيحٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَمَّارٌ مَوْلَى الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ أَنَّهُ شَهِدَ جَنَازَةَ أُمِّ كُلْثُومٍ وَابْنِهَا فَجُعِلَ الْغُلَامُ مِمَّا يَلِي الْإِمَامَ فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ وَفِي الْقَوْمِ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ وَأَبُو قَتَادَةَ وَأَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالُوا هَذِهِ السُّنَّةُ

ترجمہ Book - حدیث 3193

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل باب: مردوں اور عورتوں کے جنازے اکٹھے آ جائیں تو کسے آگے کیا جائے ؟ سیدنا عمار مولیٰ حارث بن نوفل بیان کرتے ہیں کہ وہ ام کلثوم ( دختر علی بن ابی طالب ؓ زوجہ محترمہ سیدنا عمر بن خطاب ؓ ) اور ان کے صاحبزادے ( زید اکبر ) کے جنازے میں حاضر تھے ۔ پس ( امیر مدینہ نے ) بچے کو امام کی طرف رکھا تو میں نے اس کا انکار کیا ، جماعت میں سیدنا ابن عباس ، ابو سعید خدری ، ابوقتادہ اور ابوہریرہ ؓم موجود تھے ، تو انہوں نے کہا : یہی سنت ہے ۔ معلوم ہوا کہ مرد کو امام کی طرف اور عورت کو اس کےبعد رکھا جائے۔ اوردوسری اہم بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ حضرات اہل بیت خلفائے راشدین اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کے آپس میں تعلقات انتہائی قربت اوراخوت کے تھے ۔بڑے ظالم ہیں وہ لوگ جو ان کے مابین عداوت ومخالفت باور کراتے ہیں۔