Book - حدیث 3185

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ الْإِمَامِ لَا يُصَلِّي عَلَى مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ صحیح حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ قَالَ مَرِضَ رَجُلٌ فَصِيحَ عَلَيْهِ فَجَاءَ جَارُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ إِنَّهُ قَدْ مَاتَ قَالَ وَمَا يُدْرِيكَ قَالَ أَنَا رَأَيْتُهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ قَالَ فَرَجَعَ فَصِيحَ عَلَيْهِ فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ مَاتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ فَرَجَعَ فَصِيحَ عَلَيْهِ فَقَالَتْ امْرَأَتُهُ انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ فَقَالَ الرَّجُلُ اللَّهُمَّ الْعَنْهُ قَالَ ثُمَّ انْطَلَقَ الرَّجُلُ فَرَآهُ قَدْ نَحَرَ نَفْسَهُ بِمِشْقَصٍ مَعَهُ فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ فَقَالَ وَمَا يُدْرِيكَ قَالَ رَأَيْتُهُ يَنْحَرُ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ مَعَهُ قَالَ أَنْتَ رَأَيْتَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ إِذًا لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ

ترجمہ Book - حدیث 3185

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل باب: امام ، خودکشی کرنے والے کا جنازہ نہ پڑھائے سیدنا جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص بیمار ہو گیا ، ( اس کے گھر والے ) اس پر رونے لگے ۔ تو اس کا ہمسایہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ وہ آدمی فوت ہو گیا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” تجھے کیا خبر ؟ “ اس نے کہا : میں نے اسے دیکھا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” بلاشبہ وہ نہیں مرا ہے ۔ “ تو وہ لوٹ گیا ۔ گھر والے اس آدمی پر پھر رونے لگے تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ وہ مر گیا ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” وہ نہیں مرا ہے “ تو وہ لوٹ گیا ۔ تو لوگ اس پر پھر رونے لگے ۔ اس کی بیوی نے کہا : رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور نہیں خبر کرو ۔ اس آدمی نے کہا : اے اللہ ! اس پر لعنت کر ۔ پھر وہ آدمی آیا اور دیکھا کہ اس نے اپنے آپ کو تیر ( یا نیزے ) کے پھل سے جو اس کے پاس تھا ذبح کر لیا تھا ۔ تو وہ نبی کریم ﷺ کی طرف چلا اور آپ کو خبر دی کہ وہ مر گیا ہے ۔ آپ ﷺ نے کہا : ” تمہیں کیسے خبر ہوئی ؟ “ اس نے کہا : میں نے اسے دیکھا ہے کہ اس نے نیزے کے پھل کے ساتھ اپنے آپ کو ذبح کر لیا ہے ۔ آپ ﷺ نے پوچھا ” کیا تو نے خود اسے دیکھا ہے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” تب میں اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھوں گا ۔ “ خود کشی گویا اللہ کی تقدیر سے ناراضی کا اظہار ہے۔اس لئے امام اعظم اوردیگر معتبر شخصیات اس کا جنازہ نہ پڑھیں۔تاکہ دوسروں کوعبرت ہو اور عام مسلمان پڑھیں۔