Book - حدیث 3181

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ الْإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ وَإِنْ تَكُ سِوَى ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ

ترجمہ Book - حدیث 3181

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل باب: جنازہ جلدی لے جانے کا بیان سیدنا ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ” جنازہ جلدی لے جاؤ ، اگر وہ نیک اور صالح ہے تو تم اسے بھلائی کی طرف آگے لے جا رہے ہو اور اگر وہ اس کے سوا ہے تو وہ ایک شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتار پھینک رہے ہو ۔“ وفات ہوجانے کے بعد میت کو دفن کرنے میں جلدی کرنی چاہیے۔دوردراز کے اقارب واحباب کو جمع کرنا اور ان کی آمد کے انتظار میں تاخیر کرنا ایک غیر شرعی اور نامناسب عمل ہے۔