Book - حدیث 3168

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَائِزِ وَتَشْيِيعِهَا صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، -يَرْوِيهِ-، قَالَ: >مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَصَلَّى عَلَيْهَا, فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ تَبِعَهَا حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا, فَلَهُ قِيرَاطَانِ، أَصْغَرُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ، -أَوْ- أَحَدُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ<.

ترجمہ Book - حدیث 3168

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل باب: جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت سیدنا ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ جو شخص جنازے کے ساتھ گیا اور پھر اس پر نماز پڑھی تو اس کے لیے ایک قیراط اجر ہے ‘ اور جو اس کے ساتھ گیا حتیٰ کہ ( دفن سے ) فراغت ہو گئی تو اس کے لیے دو قیراط ہیں ۔ ان دونوں قیراطوں میں سے چھوٹا احد پہاڑ کے برابر ہو گا یا فرمایا کہ ان میں ایک قیراط احد پہاڑ جتنا ہو گا ۔ دنیا میں قیراط ایک معمولی وزن ہے۔یعنی 2125۔یا 2475۔گرام۔مگر ایمان تقویٰ اور اپنے مسلمان بھائی کا حق ادا کرنے کی برکت سے اللہ عزوجل اس عمل کو پہاڑوں کے برابر دے گا۔اور ایسا ہوجانا کوئی محال نہیں ہے۔اور ہر صاحب ایمان کو ایسے اعمال خیر کا حریص ہوناچاہیے۔