Book - حدیث 316

كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ الِاغْتِسَالِ مِنَ الْحَيْضِ حسن حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ شُعْبَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ مُهَاجِرٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَسْمَاءَ سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ قَالَ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً قَالَتْ كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ تَطَهَّرِي بِهَا وَاسْتَتِرِي بِثَوْبٍ وَزَادَ وَسَأَلَتْهُ عَنْ الْغُسْلِ مِنْ الْجَنَابَةِ فَقَالَ تَأْخُذِينَ مَاءَكِ فَتَطَّهَّرِينَ أَحْسَنَ الطُّهُورِ وَأَبْلَغَهُ ثُمَّ تَصُبِّينَ عَلَى رَأْسِكِ الْمَاءَ ثُمَّ تَدْلُكِينَهُ حَتَّى يَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِكِ ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَيْكِ الْمَاءَ قَالَ وَقَالَتْ عَائِشَةُ نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ لَمْ يَكُنْ يَمْنَعُهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَسْأَلْنَ عَنْ الدِّينِ وَأَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِيهِ

ترجمہ Book - حدیث 316

کتاب: طہارت کے مسائل باب: غسل حیض کے احکام ومسائل ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا سے مروی ہے کہ سیدہ اسماء ؓا نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا اور مذکورہ بالا کے ہم معنی روایت کیا ۔ اس میں ہے کہ کستوری کا پھاہا لے ۔ وہ کہنے لگی کہ اس سے کس طرح طہارت حاصل کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” سبحان اللہ ! اس سے پاکیزگی حاصل کر ۔ “ اور آپ علیہ السلام نے کپڑے سے اپنا منہ چھپا لیا ۔ اور اس میں اضافہ ہے کہ اس نے غسل جنابت کے متعلق پوچھا : آپ ﷺ نے فرمایا ” اپنا پانی لو اور اس سے خوب اچھی طرح مکمل وضو کرو ‘ پھر اپنے سر پر پانی ڈالو ‘ پھر اسے ملو ، حتیٰ کہ بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے ۔ پھر باقی جسم پر پانی بہاؤ ۔ “ سیدہ عائشہ ؓا نے کہا : انصار کی عورتیں بہت خوب ہیں انہیں دین کے مسائل دریافت کرنے اور سمجھنے میں حیاء مانع نہیں ہوتی۔ (1) عورتوں اورمردوں کےغسل کا ایک ہی طریقہ ہےالا یہ عورتوں کوغسل جنابت میں بندھے بال نہ کھولنے کی اجازت ہے،مگر غسل حیض میں ان کوکھولنے کا حکم ہے۔اسی طرح ان کےلیے خون کی جگہ پرکستوری یا خوشبوکااستعمال کرنا بھی مستحب ہے۔بیری کاپانی ،خطمی ،صابن یاشیمپوکااستعال بھی مباحات میں سے ہےاورعورتوں کےلیے زیادہ افضل ہے۔(3) مردہویا عورت ہرایک کےلیے لازم ہےکہ اہل علم سےمخصوص مخفی مسائل بھی دریافت کیا یا کروایا کریں ۔ان مسائل میں خاموشی بعض اوقات انسان کوحرام میں ڈال سکتی ہےاوراہل علم پر بھی لازم ہے کہ اشارےکنائے کی احسن زبان میں حقائق بیان کرنے سے گریز نہ کیا کریں۔