Book - حدیث 3125

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابٌ فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ ابْنَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِ وَأَنَا مَعَهُ وَسَعْدٌ وَأَحْسَبُ أُبَيًّا أَنَّ ابْنِي أَوْ بِنْتِي قَدْ حُضِرَ فَاشْهَدْنَا فَأَرْسَلَ يُقْرِئُ السَّلَامَ فَقَالَ قُلْ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَى وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ إِلَى أَجَلٍ فَأَرْسَلَتْ تُقْسِمُ عَلَيْهِ فَأَتَاهَا فَوُضِعَ الصَّبِيُّ فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ فَفَاضَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ مَا هَذَا قَالَ إِنَّهَا رَحْمَةٌ وَضَعَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ مَنْ يَشَاءُ وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ

ترجمہ Book - حدیث 3125

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل باب: میت پر رونا سیدنا اسامہ بن زید ؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک صاحبزادی نے آپ ﷺ کو پیغام بھیجا ‘ جبکہ میں ، سعد بن عبادہ اور غالباً ابی بھی آپ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ‘ میرا بیٹا یا بیٹی نزع کی کیفیت میں ہے تو آپ ﷺ تشریف لے آئیں ۔ آپ ﷺ نے جواب میں سلام کہلوایا اور فرمایا ” اسے کہو کہ اللہ جو لے لے اور جو عنایت فر دے سب اسی کا ہے اور ہر چیز کا اس کے ہاں ایک وقت مقرر ہے ۔ “ اس نے آپ ﷺ کو دوبارہ قسم دے کر بلوایا تو آپ ﷺ تشریف لے گئے ۔ پھر بچے کو رسول اللہ ﷺ کی گود میں دے دیا گیا جب کہ وہ دم توڑ رہا تھا ۔ پس رسول اللہ ﷺ کی آنکھیں بہہ پڑیں ۔ سیدنا سعد ؓ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ کیا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” بلاشبہ یہ رحمت ہے ‘ اللہ جن کے متعلق چاہتا ہے ان کے دلوں میں اسے ڈال دیتا ہے اور اللہ اپنے انہی بندوں پر رحمت فرماتا ہے جو رحم دل ہوں ۔ “ 1۔میت پر فرط غم سے آنکھوں سے آنسووں کا نکل آنا۔ایک فطری امر ہے۔اس لئے یہ کوئی معیوب بات نہیں۔بلکہ یہ دل کی نرمی اور رحم دلی کی علامت ہے۔2۔جس شخص کادل سخت ہو۔ایسے موقعوں پر فطری طور پر جو غم ہوتا ہے۔ اس کا جائز بھی جائز طور پر اظہار نہ ہو تو یہ سنگ دلی ہے۔جو ممدوح نہیں ہے۔یہ کیفیت قابل علاج ہے۔ اور ا س کا علاج ہے موت کو کثرت سے یاد کرنا۔قبرستان کی زیارت اور یتیم کے ساتھ شفقت کا معاملہ کرنا۔ان اعمال کو بجالانے سے دل کی سختی نرمی سے بدل سکتی ہے۔3۔کہیں قریب میں بھی کوئی پیغام لینا دینا ہو تو حسن ادب یہ ہے کہ پہلے سلام کہلایا جائے۔