Book - حدیث 3117

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابٌ فِي التَّلْقِينِ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا بِشْرٌ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُمَارَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ قَوْلَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ

ترجمہ Book - حدیث 3117

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل باب: قریب المرگ کو تلقین کرنے کا بیان سیدنا ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اپنے مرنے والوں کو کلمہ «لا إله إلا الله» کی تلقین کرو ۔ “ 1۔ تلقین کی مسنون صورت یہ ہے کہ مرنے والے کو کہا جائے ۔(لا الہ الا اللہ)پڑھ لو۔جیسے کہ ر سول اللہ ﷺ نے ایک انصاری صحابی سے فرمایا تھا۔تفصیل کے لئے دیکھیں۔(مسند احمد 152/3۔268۔154)دوسری ایک صورت جو ہمارے ہاں مروج ہے کہ پاس بیٹھنے والے خود یہ کلمہ مناسب آواز سے پڑھتے ہیں تاکہ اسے یاد دہانی ہوجائے۔حسب احوال اس کے اختیار کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔2۔حدیث میں مذکور شرف وفضیلت ان کلمہ گولوگوں کےلئے ہے۔ جو عملا اس کے تقاضے پورے کرتے اور شرک وبدعت سے باز اور بیزار رہے ہوں۔لیکن محض رسمی ورواجی طور پر کلمے کا ورد کرتے رہنے والے اور عملا شرک وبدعت کے مرتکب اگر مرتے وقت بھی اس اندازہ میں کلمہ پڑھیں۔تو ۔۔واللہ اعلم۔۔۔مفید نہیں۔ہاں اگراس عزم ونیت سے پڑھیں۔کہ اگر مجھے موقع ملے تو میں اس کلمہ کے تقاضے پورے کروں گاان شاء اللہ ضرور مفید اور باعث بشارت ہے فرمایا۔( إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ)(فاطر۔10) تمام تر پاکیزہ ستھرے کلمات اس کی طرف چڑھتے ہیں۔اور نیک عمل انہیں بلند کرتاہے۔