Book - حدیث 3110

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابٌ فِی مَوْتِ الْفَجْأَةِ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ أَوْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَرَّةً عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ مَرَّةً عَنْ عُبَيْدٍ قَالَ مَوْتُ الْفَجْأَةِ أَخْذَةُ أَسِفٍ

ترجمہ Book - حدیث 3110

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل باب: موت کا اچانک آ جانا سیدنا عبید بن خالد سلمی ؓ سے روایت ہے جو کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے تھے انہوں ( مسدد ) نے ایک بار نبی کریم ﷺ سے اور ایک بار عبید سے روایت کیا : ” اچانک موت ناراضی کی پکڑ ہے ۔ “ 1۔امام ابو دائود کے شیخ مسدد نے اس روایت کوایک مرتبہ مرفوع اورایک مرتبہ موقوف بیان کیاہے۔2۔یہ اچانک موت کافر کےلئے اللہ کی ناراضی کی پکڑ ہے۔کیونکہ ایک تو ا س کی عمر اللہ کی نافرمانی میں گزری ہوتی ہے۔دوسرے اچانک موت کی وجہ سے توبہ کا امکان جو ہوتا ہے۔ وہ بھی ختم ہوجاتاہے۔ورنہ انسان بیما ر ہوتا ہے۔اور آہستہ آہستہ موت کی طرف بڑھتا ہے۔تو اس میں مرنے سے پہلے اصلاح اور توبہ کرنے کا موقع ہوتا ہے۔جواچانک موت سے ختم ہوجاتا ہے۔البتہ اللہ کے اطاعت گزار مومن بندے کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔وہ تو موت کےلئے ہر وقت تیار رہتا ہے۔اور اس کی زندی کا ہر لمحہ اللہ کی اطاعت میں گزرا ہوتا ہے۔اس لئے اس کی اچانک موت اللہ کی طرف سے نارضگی نہیں۔بلکہ ا س کےرفع درجات کاباعث ہوگی۔اس لئے امام بہیقی کی شعب الایمان میں یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ آئی ہے۔(اخذهالاسف للكافر ورحمة للمومن )(مشکواۃ الجنائز۔باب تمنی الموت۔وزکرہ) اچانک موت کافر کےلئے ناراضی کی پکڑ ہے۔اور مومن کے لئے رحمت ہے۔