Book - حدیث 3093

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ عِيَادَةِ النِّسَاءِ ضعیف حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَبُو دَاوُد وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ بَشَّارٍ عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَشَدَّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَالَ أَيَّةُ آيَةٍ يَا عَائِشَةُ قَالَتْ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ قَالَ أَمَا عَلِمْتِ يَا عَائِشَةُ أَنَّ الْمُؤْمِنَ تُصِيبُهُ النَّكْبَةُ أَوْ الشَّوْكَةُ فَيُكَافَأُ بِأَسْوَإِ عَمَلِهِ وَمَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ قَالَتْ أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا قَالَ ذَاكُمْ الْعَرْضُ يَا عَائِشَةُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ قَالَ أَبُو دَاوُد وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ

ترجمہ Book - حدیث 3093

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل باب: عورتوں کی عیادت کرنا ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اﷲ کے رسول ! میں خوب جانتی ہوں کہ قرآن مجید میں سب سے سخت آیت کون سی ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” کون سی آیت ہے وہ ؟ اے عائشہ ! “ کہتی ہیں ‘ میں نے کہا : اﷲ تعالیٰ کا یہ فرمان «من يعمل سوءا يجز به» ” جس نے بھی کوئی برائی کی ‘ اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا ۔ “ آپ ﷺ نے فرمایا ” عائشہ ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ مومن کو جو کوئی پریشانی آتی ہے یا کانٹا بھی چبھ جاتا ہے تو اسے اس کے کسی سب سے برے عمل کا بدلہ دے دیا جاتا ہے اور جس کا حساب لیا گیا تو اسے عذاب ہوا ۔ “ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : تو کیا اﷲ نے انہیں فرمایا «فسوف يحاسب حسابا يسيرا» ” عنقریب بندے کا حساب لیا جائے گا آسان حساب ؟ “ آپ ﷺ نے فرمایا ” اس سے مراد اﷲ تعالیٰ کے سامنے حاضری ہے ‘ اے عائشہ ! جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہو گئی ‘ اسے عذاب ہوا ۔ “ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں یہ ابن بشار کے لفظ ہیں ۔ اور اس کی سند میں ( «عن» کی بجائے ) «حدثنا ابن أبي مليكة» ہے ۔ 1۔اس حدیث کے علاوہ دیگر احادیث سے ثابت ہے۔کہ دنیا کی بیماریاں اور تمام طرح کے دکھ اور تکالیف حتیٰ کہ نزع روح کی اذیت عذاب قبر اور میدان حشر کے المناک احوال سبھی کچھ مومنین کےلئے گناہوں کا کفارہ اور بلندی ددرجات کا باعث ہوں گے۔اور اہل ایمان کا ایک طبقہ ان تکالیف کے باعث پاک صاف ہوکر جنت میں داخل کیاجائے گا۔2۔تھوڑے لوگ ہوں گے۔جن سے اللہ تعالیٰ میدان حشر میں ہم کلام ہوگا۔پھر یا تو انہیں خصوصی مغفرت سے بہرہ ور فرمائے گا۔یامعاندین قسم کے لوگوں کو سخت ترین عذاب سے دو چار کرے گا۔جب کہ باقی لوگوں کا حساب اور وزن وغیرہ عمومی انداز میں ہوگا۔ اور یہ کوئی آسان مرحلہ نہ ہوگا۔