Book - حدیث 3092

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ عِيَادَةِ النِّسَاءِ صحیح حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ قَالَتْ عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضَةٌ فَقَالَ أَبْشِرِي يَا أُمَّ الْعَلَاءِ فَإِنَّ مَرَضَ الْمُسْلِمِ يُذْهِبُ اللَّهُ بِهِ خَطَايَاهُ كَمَا تُذْهِبُ النَّارُ خَبَثَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ

ترجمہ Book - حدیث 3092

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل باب: عورتوں کی عیادت کرنا سیدہ ام علاء ؓا بیان کرتی ہیں کہ میں بیمار ہو گئی تو رسول اللہ ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے اور فرمایا ” اے ام علاء ! تمہیں خوشخبری ہو ‘ بلاشبہ مسلمان کی بیماری کے ذریعے سے اﷲ تعالیٰ اس کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے جیسے کہ آگ سونے اور چاندی کا کھوٹ نکال دیتی ہے ۔ “ 1۔مریض کی عیادت کرنا ایک لازمی شرعی حق ہے۔مردوں کا مردوں کے ہاں اور عورتوں کا عورتوں کے ہاں جانا معلوم ومعروف ہے۔مگر مرد عورتوں کی عیادت کےلئے جایئں۔یا عورتیں مردوں کی تو اس میں بھی کوئی شرعی قباحت نہیں ہے۔جب کہ شرعی آداب یعنی حجاب (پردے) کا اہمتمام ہوا اور اس عمل پر کوئی ضروری نہیں کہ مریض اورعیادت کنندہ کی باہم گفتگو بھی ہو۔مرد مردوں کے پاس جاکر مریضہ کے متعلق خیر وعافیت دریافت کرسکتے ہیں۔اور ایسے ہی عورتیں۔2۔مذکورہ واقعہ میں حضرت ام علاء کے شرف اور نبی کریم ﷺ کی تواضع کا بیان ہے۔کہ نبی کریمﷺ اپنے صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین اور صحابیات سب کا خاص خیال رکھا کرتے تھے۔3۔یہ خوشخبری مسلمانوں کے ساتھ ہی خاص ہے۔