Book - حدیث 3088

كِتَابُ الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ بَابُ نَبْشِ الْقُبُورِ الْعَادِيَّةِ يَكُونُ فِيهَا الْمَالُ ضعیف حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَقَ يُحَدِّثُ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ بُجَيْرِ بْنِ أَبِي بُجَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ خَرَجْنَا مَعَهُ إِلَى الطَّائِفِ فَمَرَرْنَا بِقَبْرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ وَكَانَ بِهَذَا الْحَرَمِ يَدْفَعُ عَنْهُ فَلَمَّا خَرَجَ أَصَابَتْهُ النِّقْمَةُ الَّتِي أَصَابَتْ قَوْمَهُ بِهَذَا الْمَكَانِ فَدُفِنَ فِيهِ وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّهُ دُفِنَ مَعَهُ غُصْنٌ مِنْ ذَهَبٍ إِنْ أَنْتُمْ نَبَشْتُمْ عَنْهُ أَصَبْتُمُوهُ مَعَهُ فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ فَاسْتَخْرَجُوا الْغُصْنَ

ترجمہ Book - حدیث 3088

کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل باب: پرانی قبریں کھودنے کا مسئلہ کہ جن میں مال ہو سیدنا عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ‘ جب ہم طائف کی طرف روانہ ہوئے اور ایک قبر کے پاس سے گزرے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” یہ ابورغال کی قبر ہے ۔ ( یہ ثقیف کا جد اعلی اور قوم ثمود میں سے تھا ) اس حرم میں پناہ گزیں تھا کہ اﷲ کے عذاب سے بچا رہے ۔ جب وہ اس سے باہر نکلا تو اسے اس مقام پر وہی سزا آ پہنچی جو اس کی قوم کو آئی تھی ‘ چنانچہ اسی جگہ دفن کر دیا گیا ۔ اور اس کی علامت یہ ہے کہ اس کے ساتھ سونے کی ایک سلاخ دفن کی گئی تھی ‘ اگر تم اسے اکھیڑو تو اسے اس کے ساتھ پالو گے “ تو لوگوں نے جلدی کی اور وہ سلاخ نکال لائے ۔ بلاشبہ یہ روایت سندا ضعیف ہے۔ لیکن مسئلہ یہی ہے کہ کفار کی قبروں سے اگر کوئی اس طرح کامال نکال لے تو وہ بمعنی رکاز ہوگا۔کیونکہ کفار کی قبروں کی تعظیم اس طرح ضروری نہیں ہے۔جس طرح کےمسلمانوں کی قبروں کی ضروری ہے۔لہذا ان کی قبور عام زمین کے حکم میں ہوں گی۔جسے کھود کرمدفون خزانہ حاصل کیا جاسکتاہے۔واللہ اعلم