Book - حدیث 3073

كِتَابُ الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ بَابٌ فِي إِحْيَاءِ الْمَوَاتِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ .

ترجمہ Book - حدیث 3073

کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل باب: بنجر لاوارث زمین کو آباد کرنا سیدنا سعید بن زید ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” جو شخص کسی بنجر ( لاوارث ) زمین کو آباد کرے ‘ تو وہ اسی کی ہوئی ۔ اور ظالم رگ ( انسان کے اندر دوسرے کا حق مارنے کا منفی جذبہ یا منفی جذبے کے تحت کی گئی غاصبانہ کارروائی ) کا کوئی حق نہیں ۔ “ ( یعنی جس نے ظلماً کسی جگہ پر قبضہ کر لیا تو اس کا حق تسلیم نہیں کیا جا سکتا ) ۔ چونکہ آج کل حکومت تمام زمینوں کی مالک اور متصرف ہوتی ہے۔اس لئے پہلے اس سے اجازت لینا قرین قیاس ہے۔ویسے حکومت سے بھی آباد کاری اسکیمیں متعارف کرائی جاتی ہیں۔2۔ ظالم رگ سے مراد وہ درخت بھی ہیں۔جوکوئی کسی دوسرے زمین میں بغیر اجازت کے لگادے۔یامکان بنالے۔اسے کہا جائے گا۔کہ اپنا درخت نکال لے یا مکان کا ملبہ اٹھالے الایہ کہ زمین کامالک خود راضی ہوجائے جیسے کہ درج زیل حدیث میں ہے۔