Book - حدیث 3066

كِتَابُ الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ بَابٌ فِي إِقْطَاعِ الْأَرَضِينَ حسن حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْقُرَشِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي عَمِّي ثَابِتُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حِمَى الْأَرَاكِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حِمَى فِي الْأَرَاكِ فَقَالَ أَرَاكَةٌ فِي حِظَارِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حِمَى فِي الْأَرَاكِ قَالَ فَرَجٌ يَعْنِي بِحِظَارِي الْأَرْضَ الَّتِي فِيهَا الزَّرْعُ الْمُحَاطُ عَلَيْهَا

ترجمہ Book - حدیث 3066

کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل باب: زمین کے قطعات عطا کرنا سیدنا ابیض بن حمال ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پیلو کے درختوں کو گھیرنے ( اپنے قبضے میں لینے ) کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا ” پیلو کے درختوں کو گھیرا نہیں جا سکتا ۔ “ ( دوسروں کو ان سے منع نہیں کیا جا سکتا ) اس نے کہا کہ وہ درخت جو میری زمین کے احاطے میں آتے ہوں ؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” پیلو کے درختوں کو گھیرا نہیں جا سکتا ۔ “ راوی حدیث فرج ( فرج بن سعید ) نے «حظاري» کے معنی یہ بتائے ہیں کہ وہ زمین جس میں کھیتی ہو اور اس کے گرد احاطہ بھی ہو ۔ ایسی زمینیں جو پہلے بے آباد ہوں اور حکومت اسلامیہ نے کسی کو دے دی ہوں۔یا بے آباد زمین کو کسی نے از خود آباد کیا ہو اور اس کا مالک بن گیا ہو۔تو پہلے سے موجود درختوں سے عام لوگوں کو روکنا جائز نہیں اور ایسے ی جو خود دروہوں جیسے کہ جھاڑیاں وغیرہ ہوتی ہیں۔یا خورد ہوں جیسے کہ جھاڑیاں وغیرہ ہوتی ہیں یا خورد گھاس اس سے ضرورت مندوں کو روکنا اخلاقا بھی درست نہیں ۔لیکن جسے مالک نے خود کاشت کیا ہو۔اس سے روکنے کا اسے حق ہے۔