Book - حدیث 3057

كِتَابُ الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ بَابٌ فِي الْإِمَامِ يَقْبَلُ هَدَايَا الْمُشْرِكِينَ حسن حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ قَالَ أَهْدَيْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةً فَقَالَ أَسْلَمْتَ فَقُلْتُ لَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي نُهِيتُ عَنْ زَبْدِ الْمُشْرِكِينَ

ترجمہ Book - حدیث 3057

کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل باب: حاکم کا مشرکوں سے ہدیہ قبول کرنا سیدنا عیاض بن حماد ؓ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ علیہ وسلم کی خدمت میں بطور ہدیہ ایک اونٹنی پیش کی تو آپ ﷺ نے پوچھا ” کیا تم نے اسلام قبول کر لیا ہے ؟ “ میں کہا : نہیں تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” مجھے مشرکین کے عطایا قبول کرنے سے روکا گیا ہے ۔ “ چونکہ ہدیہ لینا دینا دلوں میں قربت اورمحبت پیدا کرتا ہے۔اس لئے کافروں اور مشرکوں سے آذادانہ طور پر ہدیہ کے تبادلے سے پرہیز کرنا چاہیے۔تاہم جہاں کوئی شرعی اور سیاسی مصلحت ہو تو ہدیہ لینے میں کوئ حرج نہیں۔ مثلاکوئی کافرمسلمانوں کےلئے اپنے خضوع کا اظہار کرنا چاہتا ہو یا امید ہو کہ اس کے ساتھ موانست سے وہ اسلام کے قریب ہوگا۔یا اسلام لے آئے گا وغیرہ۔امام بخاری نے صحیح بخاری کتاب لہبہ باب قبول الہدیہ من المشرکین اور باب الہدیۃ للمشرکین میں یہی ثابت کیا ہے۔2۔ حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہدیہ قبول نہ کرنے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ انہیں اسلام لانے پر ابھارنا مقصود تھا۔آپﷺ نے اکیدر دومہ اورنجاشی کا ہدیہ قبول کیاہے۔کیونکہ ان کے ایمان لانے کی قوی امید تھی۔3۔حضرت عیاض بن حماد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بعد میں اسلام قبول کرلیا۔اور رسول اللہ ﷺ کی صحبت اختیار کی۔