Book - حدیث 3014

كِتَابُ الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ بَابُ مَا جَاءَ فِي حُكْمِ أَرْضِ خَيْبَرَ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ قَسَمَهَا سِتَّةً وَثَلَاثِينَ سَهْمًا جَمْعُ فَعَزَلَ لِلْمُسْلِمِينَ الشَّطْرَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا يَجْمَعُ كُلُّ سَهْمٍ مِائَةً النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ لَهُ سَهْمٌ كَسَهْمِ أَحَدِهِمْ وَعَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا وَهُوَ الشَّطْرُ لِنَوَائِبِهِ وَمَا يَنْزِلُ بِهِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَكَانَ ذَلِكَ الْوَطِيحَ وَالْكُتَيْبَةَ وَالسَّلَالِمَ وَتَوَابِعَهَا فَلَمَّا صَارَتْ الْأَمْوَالُ بِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمِينَ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ عُمَّالٌ يَكْفُونَهُمْ عَمَلَهَا فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَهُودَ فَعَامَلَهُمْ

ترجمہ Book - حدیث 3014

کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل باب: خیبر کی زمین کا حکم جناب بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب اپنے رسول کو خیبر عنایت فر دیا تو آپ ﷺ نے اسے کل چھتیس حصوں میں تقسیم فرمایا ۔ آپ ﷺ نے آدھے یعنی اٹھارہ حصے مسلمانوں کے لیے خاص کر دیے ۔ ہر حصہ سو حصوں پر مشتمل تھا اور نبی کریم ﷺ بھی ان کے ساتھ شریک تھے ۔ آپ ﷺ کا حصہ بھی اسی طرح تھا جیسے کہ ایک عام مسلمان کا ۔ رسول اللہ ﷺ نے اٹھارہ حصے اپنے آڑے وقتوں اور مسلمانوں کی ہنگامی ضرورت کے لیے علیحدہ کر دئیے تھے اور یہ تھے قلعہ وطیح اور کتیبہ ( ایک بستی ) اور سلالم اور ان کے مضافات ۔ جب یہ اراضی نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کے قبضے میں آ گئیں تو آپ ﷺ کے پاس کوئی ایسے محنت کش نہ تھے جو ان کے بجائے کام کرتے تو رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کو دعوت دی اور ان سے معاملہ طے کر لیا ۔ خیبر کا آدھا حصہ جو بطور غنیمت حاصل ہوا تھا۔ اس میں بھی رسول اللہ ﷺ کا حصہ تھا۔آپﷺ اپنا یہ بقیہ حصہ فی کے ساتھ ملا کر سارا صدقہ کردیا کرتے تھے۔البتہ اس میں سے بقدر کفاف اپنی ازواج کودیتے تھے۔جس طرح پہلے بالتفصیل بیان ہوچکا ہے۔2۔اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ زمین کو حصہ داری پرکاشت کرانا جسے مزارعت اور بٹائی کہاجاتاہے۔ایک جائز معاملہ ہے